جاگرت آدیواسی دلت سنگٹھن (جے اے ڈی ایس) کی لیڈر، مادھوری کرشنا سوامی کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش میں آدیواسی برادریوں کے خلاف جرائم اتنے زیادہ ہو رہے ہیں کہ ایک کارکن کے لیے ان سب پر نظر رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ’’اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ سنگین معاملے برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے سیاسی حلقوں میں پیش آئے ہیں،‘‘ وہ مزید کہتی ہیں۔
اسی سال جولائی میں، ریاست کے سدھی ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا ویڈیو وائرل ہوا تھا: جس میں شراب کے نشہ میں دھت پرویش شکلا کو ایک آدیواسی کے اوپر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ شکلا بی جے پی کا ایک کارکن ہے، جسے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
لیکن، عوام کے غصے کا سبب بننے والا ایسا کوئی ویڈیو نہ ہونے کی حالت میں قانون اتنی تیزی سے کام نہیں کرتا ہے۔ مادھوری کہتی ہیں، ’’آدیواسی برادریوں کو اکثر بے گھر یا ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں نقل مکانی کرنے کو مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یہ انہیں غیر محفوظ بناتا ہے۔ مزید برآں، قانون بھی طاقتور اور غالب برادریوں کو ان پر حملہ کرنے اور ذلیل کرنے کا موقع دیتا ہے۔‘‘
نیماور میں بھارتی کی فیملی کا قتل عام کرنے کے پیچھے مبینہ طور پر اس کی چھوٹی بہن روپالی کے ساتھ سریندر کا عشق تھا۔
دونوں ایک دوسرے کو لمبے عرصے سے چاہتے تھے، لیکن یہ رشتہ اُس دن اچانک ختم ہو گیا جب سریندر نے کسی اور عورت کے ساتھ منگنی کر لی۔ روپالی یہ سن کر کافی دنگ رہ گئی۔ بھارتی بتاتی ہیں، ’’اس نے وعدہ کیا تھا کہ ۱۸ سال کی ہونے پر وہ روپالی کے ساتھ شادی کر لے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ صرف جسمانی رشتہ بنانا چاہتا تھا۔ اس نے اسے استعمال کیا اور پھر کسی اور کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘
غصے سے بھری روپالی نے سریندر کو سوشل میڈیا پر ایکسپوز کرنے کی دھمکی دی۔ لہٰذا، سریندر نے ایک دن شام کو اسے اپنے کھیت پر بلایا اور معاملہ کو آپس میں سلجھانے کی پیشکش کی۔ پون بھی روپالی کے ساتھ وہاں گیا تھا، لیکن سریندر کے دوست نے اسے کچھ دوری پر ہی روک لیا۔ روپالی کی ملاقات سریندر سے ہوئی جہاں وہ ایک سنسان کھیت میں لوہے کی ایک راڈ کے ساتھ اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ جیسے ہی وہاں پہنچی، اس نے زور سے اس کے سر پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے وہیں اس کی موت ہو گئی۔
اس کے بعد سریندر نے پون کو پیغام بھیجا کہ روپالی اپنی جان لینے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے فوراً اسپتال لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس نے پون سے روپالی کی ماں اور بہن کو بھی ساتھ لانے کے لیے کہا جو اُس وقت اپنے گھر پر تھیں۔ دراصل، سریندر اس فیملی کے تمام لوگوں کو مار دینا چاہتا تھا کیوں کہ وہ یہ جان گئے تھے کہ اس نے روپالی کو اپنے پاس بلایا ہے۔ ان کے وہاں آنے پر اس نے ویسا ہی کیا۔ سریندر نے ایک ایک کرکے سبھی کا قتل کیا اور پھر انہیں اپنے کھیت میں ہی دفن کر دیا۔ ’’کیا یہ پوری فیملی کو مار دینے کی وجہ ہوتی ہے؟‘‘ بھارتی سوال کرتی ہیں۔