رام لیلا میدان کے پاس کی سڑکوں پر بسوں کی لمبی قطاریں لگی تھیں، جن میں بیٹھ کر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کچھ علاقوں کے کسان یہاں آئے تھے۔ صبح کے ۹ بج رہے تھے، اور اس تاریخی میدان کی طرف جانے والی سڑکوں کے فٹ پاتھ پر بسوں کے پیچھے، مردوں اور خواتین کے چھوٹے گروپ اینٹ جوڑ کر بنائے گئے چولہے میں لکڑی کی آگ پر پکائی روٹیاں کھا رہے تھے۔
توانائی سے بھرپور اس صبح کے لیے یہ جگہ ہی ان کے لیے گاؤں بن گئی تھی، اور تمام مرد و خواتین کسان جھنڈوں کے ساتھ رام لیلا میدان میں داخل ہو رہے تھے۔ ’کسان مزدور ایکتا زندہ آباد‘ کے نعروں سے آسمان گونج رہا تھا! صبح ۱۰:۳۰ بجے تک زمین پر سبز رنگ کے پالیتھین کی بُنی ہوئی شیٹ پر سینکڑوں کسان اور زرعی مزدور منظم طریقے سے بیٹھے ہوئے تھے اور کسان مزدور مہا پنچایت شروع ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
رام لیلا میدان کے دروازے صبح جا کر کھولے گئے تھے، کیوں کہ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ میدان میں پانی بھرا ہوا ہے۔ کسان لیڈروں کا الزام تھا کہ مہا پنچایت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر میدان میں پانی بھرنے کی کوشش کی گئی۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والی دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ جلسے میں شامل لوگوں کی تعداد ۵۰۰۰ تک ہی محدود رکھی جائے۔ حالانکہ، رام لیلا میدان میں اس سے تقریباً دس گنا زیادہ تعداد میں کسان موجود تھے۔ موقع پر میڈیا کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔
اجلاس کی شروعات بھٹنڈا ضلع کے بلّے گاؤں کے کسان شبھ کرن سنگھ کی یاد میں تھوڑی دیر کی خاموشی کے ساتھ ہوئی، جن کی ۲۱ فروری کو پٹیالہ کے ڈھابی گجراں میں سر پر چوٹ لگنے سے موت ہو گئی تھی، جب پولیس احتجاج کر رہے کسانوں پر آنسو گیس کے گولے اور ربر کی گولیاں برسا رہی تھی۔
مہا پنچایت میں سب سے پہلے ڈاکٹر سُنیلم نے سنیُکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کا ’سنکلپ پتر‘ پڑھا۔ اسٹیج پر ایس کے ایم اور اس سے وابستہ تنظیموں کے ۲۵ سے زیادہ لیڈر موجود تھے؛ ان میں شامل تین خواتین لیڈروں میں میدھا پاٹکر بھی تھیں۔ سبھی نے ایم ایس پی کے لیے قانونی گارنٹی کی ضرورت کے ساتھ، تمام دیگر مطالبات پر ۵ سے ۱۰ منٹ تک اپنی بات رکھی۔