نبو کمار مائتی کے کارخانہ میں چاروں طرف بطخوں کے پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان میں صاف، گندے، کٹے چھنٹے، الگ الگ سائزوں والے اور سفید رنگ کے الگ الگ شیڈ کے پر شامل ہیں۔ کھلی کھڑکیوں سے اندر آ رہی ہوا سے یہ پر اڑنے لگتے ہیں، ہوا میں چکّر کھاتے ہیں اور پھر زمین پر گر جاتے ہیں۔
اُلوبیریا میں ہم نبو کمار کے تین منزلہ گھر کے گراؤنڈ فلور پر کھڑے ہیں۔ ورکشاپ کے اندر کی ہوا قینچی سے کاٹنے اور لوہا کترنے کی آواز سے بھری ہے۔ یہیں ہندوستان کے بیڈمنٹن شٹل کاک بنتے ہیں۔ بھیجنے کے لیے تیار بیرل سے ایک کو اٹھا کر وہ بتاتے ہیں، ’’سفید بطخ کے پر، سنتھیٹک یا لکڑی کے نیم دائرہ کار کارک بیس، سوتی دھاگے اور گوند میں ملی نائیلون سے یہ شٹل بنتی ہیں۔‘‘
اگست ۲۰۲۳ کے آخر میں پیر کے روز دھوپ اور حبس بھری صبح کے ۸ بجے ہیں۔ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم، لیکن پانچ ہفتے بعد ہندوستانی کھلاڑی جنوبی کوریا کو ۱۸-۲۱؛ ۱۶-۲۱ سے شکست دے کر ملک کا پہلا ایشیائی گولڈ حاصل کریں گے۔
یہاں اُلوبیریا میں کاریگروں کی چپلیں اور سائیکلیں پروڈکشن یونٹ کے دروازے پر پہلے ہی قطار میں لگی ہیں۔ استری کی گئی پوری آستین والی مرون شرٹ اور فارمل پینٹ پہنے نبو کمار بھی کام پر آ چکے ہیں۔
پروں کو مناسب شکل دینے والے کے بطور سفر شروع کرنے والے ۶۱ سال کے نبو کمار بتاتے ہیں، ’’جب میں ۱۲ سال کا تھا، تب میں نے اپنے گاؤں بنی بن میں ایک کارخانہ میں بطخ کے پروں سے بیڈمنٹن گیندیں بنانی شروع کی تھیں۔‘‘ لوہے کی قینچی سے وہ تین انچ لمبے پروں کو کاٹ کر مناسب شکل دیتے تھے۔ کاریگر شٹل کاک کو ’گیند‘ کہتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں، ’’(بنگال میں) پہلی فیکٹری جے بوس اینڈ کمپنی تھی، جو ۱۹۲۰ کی دہائی میں پیر پور گاؤں میں کھلی تھی۔ آہستہ آہستہ جے بوس کے کاریگروں نے ارد گرد کے گاؤوں میں اپنی اکائیاں کھول لیں۔ میں نے ایسی ہی ایک اکائی میں یہ ہنر سیکھا تھا۔‘‘
























