’’پہلے بائیں مڑ یں، کچھ دور چلنے کے بعد آپ کو ایک سیاہ کھمبے پر اس فوجی کی تصویر نظر آئے گی۔ وہی اس کا گھر ہے۔‘‘ رام گڑھ سرداراں میں ایک عمر رسیدہ سائیکل مکینک ایک گھماؤدار راستے کی طرف اشارہ کر تے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اجے کمار کو فوجی یا شہید کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
لیکن حکومت ہند کی نظر میں وہ نہ تو فوجی ہیں اور نہ ہی شہید۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس ۲۳ سالہ نوجوان نے جموں و کشمیر میں شورش مخالف کارروائیوں میں اپنے خون کے آخری قطرہ تک کو اس ملک کی سرحدوں کے دفاع میں نثار کر دیا۔ دلت برادری سے تعلق رکھنے والے اس کے بوڑھے اور بے زمین والدین اپنے بیٹے کے لیے پنشن یا شہید کے درجہ کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ وہ سابق فوجی امدادی صحت اسکیم یا یہاں تک کہ کینٹین اسٹورز ڈپارٹمنٹ کی چھوٹ کے تحت کسی بھی فوائد کے اہل نہیں ہیں، کیوں کہ سرکاری ریکارڈ میں اجے کمار نہ تو فوجی تھے اور نہ ہی شہید۔
وہ صرف ایک ’اگنی ویر‘ تھے۔
یہ اور بات ہے کہ لدھیانہ ضلع کے اس گاؤں میں سرکاری ریکارڈ پر بہت توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) سے اتر کر سرسوں کے پھولوں والے خوبصورت کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑک آپ کو ۴۵ منٹ میں رام گڑھ سرداراں تک پہنچا دیتی ہے۔ یہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس گاؤں کی دیواروں نے اپنا ریکارڈ پہلے ہی لکھ رکھا ہے۔ گہرے سبز رنگ کی لباس میں ملبوس خوب رو اجے کی تصویروں والی ہورڈنگز جگہ جگہ آویزاں ہیں۔ یہ تصاویر انہیں شہید بھگت سنگھ کے ساتھ تسلسل میں کھڑا کرتی ہیں، جو نو دہائیوں قبل اپنے ساتھیوں کے ساتھ پھانسی کے تختہ پر چڑھ گئے تھے۔ ایک کے بعد ایک کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن ابھی تک انہیں شہید کا درجہ نہیں دیا گیا ہے۔
گاؤں کی ایک ہورڈنگ پر یہ پیغام لکھا ہے:
نوجوان جد اُٹھدے نے
تاں نظام بدل جاندے نے
بھگت سنگھ اجّ وی پیدا ہوندے نے
بس نام بدل جاندے نے…
[نوجوان جب اٹھتے ہیں
تو نظام بدل جاتے ہیں،
بھگت سنگھ آج بھی پیدا ہوتے ہیں،
بس نام بدل جاتے ہیں…]













