ششی روپیجہ پورے اعتماد سے تو نہیں کہہ سکتیں، لیکن ان کو لگتا ہے کہ ان کے شوہر نے پہلی بار انہیں کشیدہ کاری کرتے ہوئے ہی دیکھا تھا۔ ’’انہوں نے ضرور مجھے کشیدہ کاری کرتے ہوئے دیکھا ہوگا، اور سوچا ہوگا کہ میں بہت محنتی رہی ہوں گی،‘‘ ششی ان خوبصورت یادوں کے بارے میں ہنستے ہوئے بتاتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ایک پھلکاری ہے جسے ابھی مکمل کیا جانا باقی ہے۔
پنجاب میں یہ سردیوں کا دن ہے اور ششی پڑوس میں رہنے والی اپنی سہیلی بملا کے ساتھ بیٹھی ہوئی دھوپ کے مزے لے رہی ہیں۔ روزمرہ کی گفتگو کے درمیان بھی دونوں کے ہاتھ اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ لیکن گپ شپ لڑاتے ہوئے بھی ان کی توجہ اپنے ہاتھوں کی تیز سوئیوں سے نہیں بھٹکتی ہے۔ سوئیوں میں رنگین دھاگے لگے ہوئے ہیں، جن کی مدد سے دونوں پھلکاری کے پیٹرن بنا رہی ہیں۔
’’ایک دور تھا جب گھر گھر میں عورتیں پھلکاری کی کڑھائی کا کام کرتی تھیں،‘‘ لال دوپٹے پر ایک پھول کشیدہ کرنے کے دوران احتیاط سے اس پر ایک اور ٹانکہ لگاتے ہوئے پٹیالہ شہر کی یہ ۵۶ سالہ رہائشی بتاتی ہیں۔
پھلکاری پھولوں کے پیٹرن والی ایک کشیدہ کاری ہے، جسے عموماً دوپٹہ، شلوار قمیض اور ساڑی پر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے کپڑے پر لکڑی کے نقاشی دار ٹکڑے کی مدد سے سیاہی سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کاریگر مارکنگ کے اندر اور آس پاس ریشم اور سوتی رنگین دھاگوں کی مدد سے کشیدہ کاری کرتے ہیں۔ دھاگے پٹیالہ شہر سے منگوائے جاتے ہیں۔










