آج ۲۸ فروری، ۲۰۲۳ ہے اور شام کے ۶ بج چکے ہیں۔ خوبصورت نظر آ رہے کھول ڈوڈا گاؤں میں سورج جیسے ہی غروب ہوتا ہے، ۳۵ سال کے رام چندر دوڑکے لمبی رات کے لیے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ وہ دور تک روشنی دینے والی، ہائی پاور والی ’کمانڈر‘ ٹارچ کو چیک کرتے ہیں اور اپنا بستر باندھتے ہیں۔
ان کے اس چھوٹے سے گھر میں، ان کی بیوی جے شری رات کا کھانا بنا رہی ہیں – جس میں دال اور شوربے والی سبزی شامل ہے۔ بغل والے گھر میں، ان کے ۷۰ سال کے چچا داداجی دوڑکے بھی رات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ان کی بیوی شکو بائی خوشبودار چاول پکا رہی ہیں، جسے دونوں میاں بیوی اپنے کھیت پر ہی اُگاتے ہیں – اور چپاتی (روٹیاں) بھی بنا رہی ہیں۔
رام چندر کہتے ہیں، ’’ہماری تیاری تقریباً پوری ہو چکی ہے۔ کھانا تیار ہوتے ہی ہم لوگ یہاں سے روانہ ہو جائیں گے۔‘‘ جے شری اور شکو بائی ہمارے لیے رات کا کھانا پیک کرنے جا رہی ہیں، وہ مزید بتاتے ہیں۔
ریاست کے درج فہرست قبائل میں شامل مانا برادری سے تعلق رکھنے والے داداجی اور رام چندر آج ہمارے میزبان ہیں۔ داداجی ایک کیرتنکار (بابا صاحب امبیڈکر کے پیروکار) ہیں، اور خود ایک کسان ہیں؛ جب کہ رام چندر اپنی فیملی کی پانچ ایکڑ زمین کی دیکھ بھال کرتے ہیں کیوں کہ ان کے والد بھیکاجی – داداجی کے بڑے بھائی – سخت بیمار رہنے کی وجہ سے اب کھیتی باڑی کا کام نہیں سنبھال سکتے۔ بھیکاجی کسی زمانے میں گاؤں کے ’پولیس پاٹل‘ ہوا کرتے تھے، یہ وہ کلیدی عہدہ ہے جو گاؤں اور پولیس کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے۔
ہم لوگ رام چندر کے کھیت کی طرف جانے کی تیاری کر رہے ہیں، جو کہ ناگپور ضلع کی بھیوا پور تحصیل میں واقع ان کے اس گاؤں سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہ لوگ کھیت میں کھڑی فصل کو جنگلی جانوروں سے بچانے کے لیے رات میں جاگ کر پہریداری کرتے ہیں، جسے ’جگلی‘ کہا جاتا ہے۔ ہم سات لوگوں کے اس گروپ میں رام چندر کا بڑا بیٹا آشوتوش بھی ہے، جو ابھی نو سال کا ہے۔


























