اندھیری اسٹیشن پر ٹرین کے اندر کی حالت اور اس میں سوار ہوتے مسافروں کے تیز شور شرابے سے عجیب سا تضاد پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ڈبے میں داخل ہونے کی افراتفری میں سواریوں کے ہاتھ جو کچھ بھی آتا ہے، وہ اسی کو پکڑ لینا چاہتے ہیں – چاہے وہ کمپارٹمنٹ کے دروازے ہوں یا کسی دوسرے مسافر کا ہاتھ۔ آس پاس کے لوگ دھکہ مُکی کر رہے ہیں، لڑکھڑا رہے ہیں اور خالی سیٹوں پر قبضہ کرنے کے لیے لپک رہے ہیں۔ وہ لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں اور یہاں تک کہ ان لوگوں کو دھکہ دینے کی بھی کوشش کر رہے ہیں جو سیٹ پر بس بیٹھنے ہی والے ہیں۔
ٹرین میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ان مسافروں کی بھیڑ میں ۳۱ سال کے کشن جوگی اور ان کی ۱۰ سال کی بیٹی بھارتی بھی ہے، جس نے ہلکے نیلے رنگ کا راجستھانی گھاگھرا اور بلاؤز پہن رکھا ہے۔ ویسٹرن سبرب (مغربی مضافات) لائن کی سات بجے والی یہ ممبئی لوکل اُس شام کی پانچویں ٹرین ہے، جس پر باپ بیٹی کی یہ جوڑی سوار ہو چکی ہے۔
ٹرین جیسے ہی رفتار پکڑتی ہے اور مسافر تھوڑی راحت کی سانس لیتے ہیں، ماحول میں کشن کی سارنگی سے نکلی دُھن کی آواز گونجنے لگتی ہے۔
’’تیری آنکھیں بھول بھلیا…باتیں ہیں بھول بھلیا…‘‘
ان کا دایاں ہاتھ کمان کو سارنگی کے پتلے فنگر بورڈ پر کس کر تانے ہوئے تین تاروں والے ساز پر تیزی سے گھومتا ہے، اور ان تاروں سے ایک گہری گونجتی ہوئی سریلی آواز نکلتی ہے۔ سارنگی کا نچلا گول سرا ان کے سینہ اور بائیں بازو کے درمیان ٹکا ہوا ہے۔ ان کے ساز سے پھوٹ کر نکل رہا سال ۲۰۲۲ کی بالی ووڈ فلم ’بھول بھلیا‘ کا مشہور گانا ایک الگ ہی جادوئی اثر پیدا کرتا ہے۔
ٹرین کی کوچ میں بیٹھے کچھ مسافر اس خوبصورت دھن کو سننے کی خاطر تھوڑی دیر کے لیے سہی، ادھر کو متوجہ ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ جیب سے اپنا فون نکال کر اس دُھن کو ریکارڈ کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تیرنے لگتی ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ کانوں میں ایئر پلگ ڈال کر اپنے فون میں صرف اس لیے مصروف ہو جاتے ہیں، تاکہ کمپارٹمنٹ میں گھوم گھوم کر پیسے مانگتی ہوئی چھوٹی سی بچی بھارتی کو نظر انداز کر سکیں۔










