گوٹھی کی ایک گلی میں، دو عورتیں پتھر کے بڑے ٹکڑوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ رہی ہیں، انہیں شکنجے سے پکڑ کر ان پر ہتھوڑے مار رہی ہیں۔ پتھر چکناچور ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں اور چہرے دھول سے بھر گئے ہیں۔ وہ کوئی حفاظتی دستانے یا ماسک کا استعمال نہیں کرتیں۔ ’’کبھی کبھی، پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہماری آنکھوں میں پڑ جاتے ہیں اور ہمیں فوری طور پر ہسپتال بھاگنا پڑتا ہے جو دھارچولا میں واقع ہے [ یہاں سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر]۔ بعض اوقات ہماری انگلیاں زخمی ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ تو چلتا ہی رہتا ہے،‘‘ ۶۵ سالہ بتولی دیوی کہتی ہیں۔ دوپہر کا وقت ہے، اور انہوں نے پتھروں سے بھری بوری جمع کرلی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ دن کی روشنی ختم ہونے تک کام کرتی رہیں گی۔
پتھروں کو توڑنا گوٹھی کی خواتین کے لیے نہ صرف پتھروں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہے بلکہ ان کے ہاتھوں سے بنی ہوئی روایتی مصنوعات کی گرتی ہوئی مانگ کی وجہ سے بھی مستقل ذریعہ معاش بن گیا ہے۔ یہاں کی زیادہ تر خواتین بھوٹیا قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، جو اپنی بہترین بُنائی اور مہارت کے لیے مشہور ہیں۔ وہ کسی بھی چیز کی بُنائی کر سکتی ہیں، چٹائیوں سے لے کر کمبل تک، سویٹر سے لے کر موزوں تک، اس خطے میں یہ سب کچھ بھیڑوں سے حاصل کیے گئے اون سے ہوتا ہے۔ بھوٹیا خواتین کو بُنائی کرنا سب سے زیادہ پسند ہے۔ اسی سے وہ اپنی روزی روٹی کماتی تھیں۔ ان کے ہنر کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بتولی دیوی پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ ایک الگ ہی دور تھا۔
اب لکڑی کے کرگھوں پر – جو کہ زیادہ تر سیلاب میں بہہ گئے یا خراب ہو گئے اور انہیں دوبارہ بنانا پڑا – بہت سے گھروں کے کونوں میں دھول جمع ہو رہی ہے۔ سیلاب سے بچ جانے والے کرگھوں میں سے کچھ سو سال پرانے ہیں، جو ماؤں کی طرف سے بیٹیوں اور بہوؤں کو بیش قیمتی تحائف کے طور پر دیے گئے تھے۔ بُنائی کی مہارت بھی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ قسمتی دیوی (۵۲) کہتی ہیں، ’’اگر اور کچھ نہیں تو بھوٹیا لڑکی کو یہ ضرور معلوم ہوگا کہ بُنائی کیسے کی جاتی ہے اور [گیہوں سے] شراب کیسے بنائی جاتی ہے۔‘‘