ہم ایک جھاڑی دار جنگل میں ’ڈیولس بیک بون‘ (شیطان کی ریڑھ) کی تلاش میں ہیں۔ اسے ہی پیرنڈئی (سیسس کواڈرینگولرس) کہا جاتا ہے۔ میں اور رتھی اس مربع شکل کی ڈالیوں والی بیل کی تلاش میں ہیں۔ اس میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ عام طور پر نرم ڈالیوں کو توڑ کر صاف کیا جاتا ہے اور لال مرچ پاؤڈر، نمک اور تل کے تیل کے ساتھ ملا کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ صحیح طریقے سے بنایا گیا اچار ایک سال تک خراب نہیں ہوتا۔ اور چاول کے ساتھ اس کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے۔
یہ جنوری کی ایک گرم دوپہر ہے اور جنگل کا ہمارا راستہ ایک قدیم، سوکھے ہوئے نالے کا تعاقب کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ اس نالے کا ایک اثر انگیز تمل نام ہے: ایلّئی اتا امّن اوڈئی۔ اس کا مطلب بغیر سرحدوں والی دیوی ماں کی دھارا ہے۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو آپ کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ پتھروں اور ریت کے اوپر سے گزرنے والا، کہیں چوڑا اور کہیں گیلا، یہ راستہ مجھے کچھ اور بھی دیتا ہے۔
رتھی چلتے چلتے کہانیاں سناتی ہیں: سنتروں اور تتلیوں کی چند خیالی اور تفریحی کہانیاں اور چند حقیقی اور دل دہلا دینے والی کہانیاں۔ مثلاً نوے کی دہائی میں جب وہ ہائی اسکول میں تھیں اس وقت کے کھانے اور ذات پات کے تصادم کی سیاست کی کہانیاں۔ ’’میری فیملی بھاگ کر توتوکوڑی چلی گئی تھی…‘‘
ایک پیشہ ور قصہ گو، لائبریری کنسلٹنٹ اور کٹھ پتلی باز کے طور پر رتھی اپنے گاؤں میں دو دہائیوں بعد واپس آئی ہیں۔ وہ بولتی دھیرے دھیرے ہیں، لیکن پڑھتی کافی تیزی سے ہیں۔ ’’کووڈ کے وبائی مرض کے دوران صرف سات مہینوں میں، میں نے بڑے اور چھوٹے بچوں کی ۲۲۰۰۰ کتابیں پڑھ ڈالیں۔ روزانہ کسی نہ کسی موقع پر میرے معاون مجھ سے پڑھنا بند کرنے کی التجا کرتے تھے۔ ورنہ میں ڈائیلاگ میں بات کرنے لگتی،‘‘ اور وہ ہنس دیتی ہیں۔
ان کی ہنسی ندی کے بہاؤ جیسی ہے۔ ان کا نام بھی بھاگیرتھی ندی کے نام پر رکھا گیا ہے، جس کا مخفف رتھی ہے۔ وہ ہمالیہ کے جنوب میں تقریباً ۳۰۰۰ کلومیٹر دور رہتی ہیں جہاں ان کے نام کی ندی گنگا کہلاتی ہے۔ ان کا گاؤں تینکلم، تمل ناڈو کے ضلع ترونیل ویلی میں واقع ہے اور پہاڑیوں اور جھاڑی دار جنگلوں سے گھرا ہوا ہے۔ وہ انہیں اچھی طرح جانتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے گاؤں کے تمام لوگ انہیں پہچانتے ہیں۔
’’آپ جنگل کیوں جا رہی ہیں؟‘‘ چند خواتین مزدور دریافت کرتی ہیں۔ ’’ہم پیرنڈئی لانے جا رہے ہیں،‘‘ رتھی جواب دیتی ہیں۔ ’’وہ عورت کون ہے؟ آپ کی دوست ہے؟‘‘ ایک چرواہا پوچھتا ہے. ’’ہاں، ہاں،‘‘ رتھی مسکراتی ہیں، میں ہاتھ لہراتی ہوں اور ہم دونوں آگے بڑھ جاتے ہیں…

















