وہ لڑکا اسٹیج پر چڑھ گیا، جہاں رقص کرنے والی لڑکیاں ناچ رہی تھیں اور اس نے ۱۹ سال کی مسکان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’ابھیئے گولی مار دیں گے، تو تُرت ناچنے لگے گی،‘‘ اس نے کہا۔
ناظرین کے مجمع سے اسٹیج پر چڑھا وہ نوجوان جب مسکان کو دھمکیاں دے رہا تھا، تب ناچ دیکھنے آئی بھیڑ تالیاں اور سیٹیاں بجا کر اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھی۔ لڑکی کا قصور بس اتنا تھا کہ اس نے ایک بھدّے بھوجپوری گانے پر ناچنے سے منع کر دیا تھا۔ وہ بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں ایک ہزار سے بھی زیادہ مرد ناظرین کی طعنے مارتی اور بھدے اشارے کرتی بھیڑ کے سامنے خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔
رونالی آرکیسٹرا گروپ کی فنکار مُسکان، ان سات رقص کرنے والی لڑکیوں میں شامل تھیں جو اُس ناچ گانے کے شو میں، جسے مقامی زبان میں ’’آرکیسٹرا‘‘ کہا جاتا ہے، اپنا ڈانس پیش کر رہی تھیں۔ اس شو کا اہتمام چریّا بلاک میں درگا پوجا کا تہوار منانے کے لیے کیا گیا تھا۔
’’ہم ناچنے والیوں کے لیے یہ دھمکیاں عام بات ہیں،‘‘ مسکان بتاتی ہیں۔ وہ اس قسم کے آرکیسٹرا پروگراموں میں گزشتہ تین سالوں سے ڈانس کر رہی ہیں۔
حالانکہ، جلد ہی دھمکیوں کی آڑ میں ان لڑکیوں کے جسم سے چھیڑ چھاڑ کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ’’کمر پر ہاتھ رکھنا یا بلاؤز میں ہاتھ گھسانے کی کوشش کرنا یہاں مردوں کی روزمرہ کی حرکتیں ہیں،‘‘ رادھا کہتی ہیں، جو خود ایک رقاصہ ہیں۔













