’’موجودہ بجٹ ہمارے گزر بسر سے متعلق کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں پیش کرتا۔ ایسا لگتا ہے کہ بجٹ میں صرف متوسط طبقہ اور خاص طور پر نوکری پیشہ لوگوں پر توجہ دی گئی ہے،‘‘ گیتا واڑچل کہتی ہیں۔
کاڈر برادری، جسے خاص طور سے کمزور قبائلی گروہ (پی وی جی ٹی) کے طور پر درج کیا گیا ہے، سے تعلق رکھنے والی ۳۶ سالہ گیتا، کیرالہ کے تریشور ضلع میں مجوزہ آتِرپِلّی پن بجلی پروجیکٹ کے علاقہ میں رہتی ہیں۔
باندھ چالاکوڈی طاس (بیسن) میں واقع ہے، جو ان کی برادری کے لوگوں کو چوتھی بار بے گھر کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگا۔ ’’پورے ملک میں بڑے پیمانے پر چل رہے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر سے متعلق منصوبوں کے سبب ہمیں نقل مکانی کا غم برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ہماری زمینوں، جنگلات اور وسائل پر کارپوریٹ کے قبضہ کا کوئی ذکر بھی نہیں ملتا ہے،‘‘ گیتا کہتی ہیں، جو اس باندھ کے خلاف چل رہی عوامی تحریک کے چہرے کے طور پر ابھری ہیں۔
’’جنگل میں زندگی بسر کرنے والے آدیواسیوں کو اپنے وجود کی بقا کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم مسلسل ناموافق آب و ہوا، جنگل کی کٹائی اور روزگار کے کم ہوتے ذرائع سے نبرد آزما ہوتے رہے ہیں،‘‘ کیرالہ کی اکیلی خاتون آدیواسی رہنما گیتا کہتی ہیں۔




