’’میں تقریباً ۴۵۰ پرندوں کی آوازیں پہچانتا ہوں۔‘‘
میکا رائی کے لیے یہ ایک اہم مہارت ہے۔ بطور فوٹوگرافر جنگل میں نایاب پرندوں اور جانوروں کو کیمرے میں قید کرنا انتظار کا متقاضی ہوتا ہے، اور اس میں آوازوں کی شناخت کی بھی کلیدی اہمیت ہوتی ہے۔
اڑنے والے پرندوں سے لے کر سموردار جانوروں تک، میکا نے گزشتہ برسوں میں تقریباً ۳۰۰ مختلف انواع کی تصاویر اتاری ہیں۔ وہ اپنی سب سے مشکل تصاویر میں سے ایک تصویر کو یاد کرتے ہیں۔ یہ بلتھس ٹریگوپَین (ٹریگوپَین بلتھی) پرندے کی تصویر تھی، جو شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔
یہ اکتوبر ۲۰۲۰ کا واقعہ ہے، جب میکا نے سگما ۱۵۰ ایم ایم-۶۰۰ ایم ایم ٹیلی فوٹو زوم لینس حاصل کیا تھا۔ اس طاقتور لینس کی مدد سے وہ ٹریگوپین کی تصویر کشی کو لے کر پرعزم تھے۔ انہوں نے پرندے کی آوازوں کا مسلسل بغیر تھکے تعاقب کیا۔ ’’کافی دنوں سے آواز تو سنائی دے رہی تھی۔‘‘ لیکن ان کی محنت بارآور ثابت نہیں ہو رہی تھی۔
مئی ۲۰۲۱ میں ایک بار پھر میکا اروناچل پردیش کی ایگل نیسٹ وائلڈ لائف سینکچری کے گھنے جنگلوں میں بلتھس ٹریگوپین کی آواز کا تعاقب کر رہے تھے۔ آخرکار اس دفعہ انہیں یہ نایاب پرندہ واضح طور پر نظر آیا۔ وہ اپنے نیکون ڈی۷۲۰۰ پر نصب سگما ۱۵۰ ایم ایم-۶۰۰ ایم ایم ٹیلی فوٹو زوم لینس کے ساتھ تیار تھے۔ لیکن گھبراہٹ ان پر حاوی ہو گئی۔ ’’میں ایک دھندلی تصویر نکال سکا، جس کا کوئی مصرف نہیں تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔
دو سال بعد مغربی کمینگ کے بومپو کیمپ کے قریب اب تک نظر نہ آنے والا یہ سرخی مائل بھورے رنگ کا چمکدار پرندہ جس کی پیٹھ پر چھوٹے چھوٹے سفید نقطے ہوتے ہیں، ایک بار پھر نظر آیا۔ اس بار یہ جزوی طور پر پتوں سے چھپا ہوا تھا۔ اس بار میکا نے کوئی غلطی نہیں کی۔ انہوں نے ۳۰ سے ۴۰ تصویریں اتاریں۔ اس دفعہ وہ ایک دو اچھی تصاویر حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ پہلی بار پاری میں، خطرے کو بھانپ کر مسکن بدلتے اروناچل کے پرندے عنوان کے تحت شائع ہوا تھا۔




















