اصغر کہتے ہیں، ’’میں دکان پر آٹھ سے دس گھنٹے تک کام کرتا ہوں اور تین ساڑیوں پر چھاپے کا کام مکمل کرتا ہوں۔ اس کام سے مجھے روزانہ تقریباً ۵۰۰ روپے کی آمدنی ہوتی ہے، لیکن یہ کام صرف تین سے چار ماہ تک دستیاب رہتا ہے۔ جب چھاپے کا کوئی کام نہیں ہوتا، تو میں تعمیراتی مقامات پر کام کرتا ہوں۔‘‘
اصغر ورکشاپ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور بہار شریف قصبہ میں رہتے ہیں۔ اس ورکشاپ میں وہ صبح ۱۰ بجے سے رات ۸ بجے تک کام کرتے ہیں۔ ’’پیسے بچانے کے لیے، میرا بیٹا دوپہر کے کھانے کے دوران گھر کا پکا ہوا کھانا لاتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
پانچ سال کی مختصر مدت کے لیے وہ دہلی گئے تھے اور تعمیراتی مقامات پر کام کرتے تھے۔ اب وہ یہیں اپنی بیوی اور ۱۴ اور ۱۶سال کی دو بیٹوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ دونوں اسکول میں پڑھائی کر رہی ہیں۔ اصغر کا کہنا ہے کہ وہ بہار شریف میں اپنی آمدنی سے مطمئن ہیں اور کنبے کے ساتھ رہنا ان کے لیے ایک بونس ہے۔ ’’یہاں بھی کام ہو رہا ہے تو کاہے لا [کس لیے] باہر جائیں گے؟‘‘ وہ اس رپورٹر کو بتاتے ہیں۔
محمد ریاض (۶۵) پپو کی دکان پر بطور چھاپہ کاریگر کام کرتے ہیں، اور پورے سال کے دوران روزی روٹی کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے دیگر مہارتیں بھی حاصل کی ہیں: ’’جب چھاپہ کا کوئی کام نہیں ہوتا ہے، تو میں ایک [میوزک] بینڈ کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں پلمبنگ بھی جانتا ہوں۔ یہ کام مجھے سال بھر مصروف رکھتے ہیں۔‘‘
پپو کا کہنا ہے کہ چھاپے کے کام سے بہت معمولی آمدنی ہوتی ہے، اور اس سے گھر چلانا مشکل ہوتا ہے۔ ان کے کنبے میں ان کی بیوی اور سات سے سولہ سال کی عمر کے ان کے تین بچے ہیں۔ ’’اس کام سے نہ کے برابر آمدنی ہوتی ہے۔ آج تک میں یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ مجھے چھاپے کے کپڑے پر کتنا منافع ملتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح میں صرف اپنے کنبے کے لیے کھانے کا انتظام کر پاتا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
وہ اس غیر پائیدار ہنر کو اپنے بیٹوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ’’ہم پاگل نہیں ہیں جو چاہیں گے کہ میرے بیٹے اس لائن [کاروبار] میں آئیں۔‘‘