’’وہ کہتے ہیں کہ یہ جگہ بدبودار ہے، گندی دکھائی دیتی ہے، اور کوڑے سے بھری ہوئی ہے،‘‘ سڑک کے دونوں طرف قطار میں لگے مچھلی کے ڈبوں اور وہاں بیٹھے مچھلی فروشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے این گیتا احتجاجی لہجے میں کہتی ہیں۔ ’’یہ کوڑا ہماری دولت ہے۔ یہ بدبو ہمارا ذریعہ معاش ہے۔ اسے چھوڑ کر ہم کہاں جا سکتے ہیں؟‘‘ ۴۲ سالہ گیتا پوچھتی ہیں۔
ہم مرینا ساحل کے ساتھ ۵ء۲ کلومیٹر تک چلنے والی لوپ روڈ پر نوچی کُپّم کے عارضی مچھلی بازار میں کھڑے ہیں۔ ’وہ لوگ‘ جو شہر کی خوبصورتی کے نام پر دکانداروں کو یہاں سے ہٹانا چاہتے ہیں، وہ دراصل طبقہ اشرافیہ کے قانون ساز اور شہری حکام ہیں۔ گیتا جیسے ماہی گیروں کے لیے نوچی کُپّم ان کا او رو (گاؤں) ہے۔ سونامیوں اور طوفانوں کے باوجود اس جگہ سے ان کا تعلق ہمیشہ قائم رہا ہے۔
بازار کی رونق بڑھنے سے پہلے گیتا صبح صبح اپنا اسٹال درست کر رہی ہیں۔ چند الٹی ہوئی کریٹوں کے سہارے پلاسٹک کے بورڈ سے بنائی گئی عارضی میز پر وہ پانی چھڑک رہی ہیں۔ اس اسٹال پر وہ دوپہر ۲ بجے تک رہیں گی۔ دو دہائی سے بھی کچھ عرصہ قبل اپنی شادی کے بعد سے وہ یہاں مچھلیاں فروخت کر رہی ہیں۔
لیکن ایک سال سے کچھ عرصہ پہلے، ۱۱ اپریل ۲۰۲۳ کو انہیں اور لوپ روڈ کے تقریباً ۳۰۰ دیگر مچھلی فروشوں کو گریٹر چنئی کارپوریشن (جی سی سی) کی جانب سے بے دخلی کا نوٹس موصول ہوا ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کے ایک آرڈر میں جی سی سی کو ایک ہفتے کے اندر سڑک خالی کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ’’گریٹر چنئی کارپوریشن قانونی عمل کی پاسداری کرتے ہوئے لوپ روڈ پر موجود ہر تجاوزات [مچھلی فروشوں، اسٹالوں، وہاں کھڑی گاڑیوں] کو ہٹائے گی۔ اس عمل کو یقینی بنانے میں پولیس کارپوریشن کو مدد فراہم کرے گی تاکہ سڑک کا پورا حصہ اور فٹ پاتھ تجاوزات سے پاک ہو جائے اور ٹریفک کی آزادانہ آمد و رفت ممکن ہو سکے اور پیدل چلنے والے بھی آسانی سے آ جا سکیں۔‘‘






















