بنگالی کھول کے مقابلے آسامی کھول ڈرم کا (باس) ساؤنڈ کم ہوتا ہے۔ نیگیرا کے مقابلے ڈھول کی آواز اونچی ہوتی ہے۔ گریپود بادیوکار اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ طبلے جیسے سازوں کا کاریگر ہونے کے ناطے وہ اپنے روزمرہ کے کام کی ان باریکیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
’’نوجوان لڑکے مجھے اپنا اسمارٹ فون دکھاتے ہیں اور ایک خاص اسکیل پر ٹیون کو سیٹ کرنے کے لیے کہتے ہیں،‘‘ آسام کے ماجولی میں رہنے والے یہ ماہر ساز کاریگر کہتے ہیں۔ ’’لیکن ہمیں ان ایپ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔‘‘
گریپود بتاتے ہیں کہ ایک ٹیونر ایپ کی مدد کے بعد بھی ان طبلہ جیسے سازوں کو بنانے کا پورا عمل آخرکار جانچ اور ترمیم کرنے کے طریقہ پر ہی منحصر ہے۔ اس میں جانوروں کی کھال کو ساز کے دونوں سروں پر اچھی طرح سے کھینچ کر لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’ٹیونر ایپ بھی اس کے بعد ہی کام کرتا ہے۔‘‘
گریپود اور ان کے بیٹے پدوم بادیوکاروں کی ایک لمبی پشتینی روایت سے تعلق رکھتے ہیں۔ دُھلی اور سبدکار ناموں سے بھی جانے جانے والی ان کی برادری آلات موسیقی کو بنانے اور ان کی مرمت کرنے کی وجہ سے مشہور ہے۔ تریپورہ میں وہ درج فہرست ذات کے تحت درج ہیں۔
پدوم اور گریپود عام طور پر ڈھول، کھول اور طبلہ بناتے ہیں۔ ’’چونکہ یہاں سترا ہوتے ہیں، اس لیے ہمیں سال بھر کام ملتا رہتا ہے،‘‘ پدوم کہتے ہیں۔ ’’ہم اپنی ضرورت کے حساب سے کمائی کر لیتے ہیں۔‘‘













