بھلے ہی کُڈال کی فضا سے شدید خوف کے بادل چھٹ گئے ہوں، لیکن دوراندیشی کے فقدان کے باعث محکمہ جنگلات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پکڑے گئے تین جنگلی ہاتھیوں میں سے ایک، تربیت کے دوران اس سال فروری میں مر گیا۔ وہ ۴۰ سال کا تھا جب کہ ہاتھیوں کی اوسط عمر ۸۰ سال ہوتی ہے۔ کدم کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک قدرتی موت تھی۔ ہم نے اس کے ساتھ دوسرے دو ہاتھیوں سے مختلف سلوک نہیں کیا۔‘‘ تاہم، مقامی صحافی چندو شیڈگے کہتے ہیں، ’’اس علاقے میں ہاتھیوں کی صحت سے متعلق مہارت رکھنے والا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔ بلائے جانے پر میسور سے ایک ڈاکٹر یہاں آتا ہے۔‘‘
ہاتھی کی درجہ بندی زیر خطر نسل کے طور پر کیے جانے کے بعد ان کا تحفظ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک ہاتھی کو ہر روز ۲۰۰ کلو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں گھاس، پودوں اور پانی کی برابر مقدار شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کیچڑ بھی بہت پسند ہے۔ وہ شدید گرمی میں اپنے جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے کیچڑ میں بیٹھ جاتے ہیں، کیونکہ ان میں پسینے کے غدود نہیں ہوتے۔ ’’درجہ حرارت ۴۰ ڈگری پر جانے کے بعد کرال میں مطلوبہ دلدلی علاقے کا بندوبست کرنا عملی طور پر ناممکن ہوجاتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم ہاتھیوں کی نگہداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں،‘‘ شندے کہتے ہیں۔ ’’میری رائے میں، ہمارے پاس افرادی قوت کی بھی کمی ہے۔‘‘
پونے کے فاریسٹ آفیسر سنیل لمیے نے ہاتھی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے اپنا سبق سیکھ لیا ہے اور مستقبل میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم معیارات کی پاسداری کریں اور ہاتھیوں کی ضرورت کی ہر چیز فراہم کریں۔‘‘
لیکن اس کے فوراً بعد، ایک حالیہ سنیچر کی دوپہر کو آمبیری کا سکون درہم برہم ہوگیا۔ زندہ بچے دو ہاتھیوں میں سے ایک پوری دوپہر چیختا چنگھاڑتا رہا۔ موسم نے اس پر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔ سات سے آٹھ لوگوں نے اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی پرزور کوششیں شروع کیں۔ وہ ایک قابل رحم منظر تھا۔ ہاتھی اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ وہ اپنا وزن برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ لوگوں نے رسی کی مدد سے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن آدھا اٹھنے کے بعد وہ پھر گر جاتا تھا۔ چند ناکام کوششوں کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے ایک شکست خوردہ اور کمزور جنگجو کی طرح بے حس و حرکت پڑا رہا۔
ماحول میں سنسنی پھیل گئی۔ مقامی ڈاکٹروں کو بلایا گیا اور انہوں نے سیلائین چڑھائی۔ جب کہ دوسرے لوگوں نے اسے کیلے کے درخت کھلائے، کچھ نے پائپ کا انتظام کیا اور اس پر پانی کے فوارے چھوڑے گئے۔ بعد میں آئس پیک لگایا گیا۔ وہ سارا دن نہیں اٹھا، جبکہ دوسرا ہاتھی بے بسی سے دیکھتا رہا۔ وہ اگلے دن اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ہو گیا تھا، لیکن یہ ایک عارضی اطمینان ثابت ہوا کیونکہ وہ ایک ماہ کے اندر، ۲۹ مئی کو مر گیا۔
شندے کا کہنا ہے کہ ’’کُڈال میں ایک کل وقتی ہاتھی کا ماہر تعینات ہونا چاہیے۔‘‘ کدم نے اعتراف کیا کہ مہاراشٹر میں ابھی بھی جنگلی ہاتھیوں سے نمٹنے کے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’کرناٹک میں سینکڑوں سالوں سے وہ طریقے موجود ہیں۔ ۲۰۰۴ سے قبل مہاراشٹر میں کسی نے اس طرح کے ٹکراؤ کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘
دیگر اعتراضات میں سے ایک، ہاتھیوں کو تربیت دینے کا طریقہ بھی ہے۔ آس پاس کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تربیت کے دوران ہاتھیوں کو مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شندے کہتے ہیں، ’’یہ ایک روایتی طریقہ ہے۔ ہاتھی جیسے حساس جانور کو تربیت دینے سے پہلے اسے اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔‘‘ ماہرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ روایتی طریقہ دونوں ہاتھیوں کی موت کا سبب بنا ہو۔ ’’جنگلی ہاتھی پوری زندگی اپنی شرائط پر گزارتا ہے۔ اچانک اسے چہار دیواری میں قید کر لیا جاتا ہے۔ یہ اس کی نفسیات کو بری طرح متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،‘‘ شندے کہتے ہیں۔ ’’ہاتھیوں کو اپنی فطری جبلت پر عمل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر ہم ایک نشان زدہ پناہ گاہ میں مناسب رہائش فراہم کرتے، تو وہ دیہاتوں میں نہیں بھٹکتے۔ کسان بے خوف زندگی گزارتے اور ہم جنگلات کا تحفظ بھی کر پاتے۔‘‘
لمیے کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر اور کرناٹک کی سرحد کے ساتھ ’’دانڈیلی–تلاّری ہاتھی ریزرو‘‘ اس ٹکڑاؤ کا ایک طویل مدتی حل ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ کام مہاراشٹر اور کرناٹک کی حکومتوں کی مشترکہ پہل سے ہوسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک فوری مقصد ’’کسانوں کو باخبر کرنا اور ان میں بیداری پیدا کرنا‘‘ ہو سکتا ہے، کیونکہ گھبراہٹ کا رویہ جنگلی ہاتھیوں کے درمیان جارحیت کا باعث بنتا ہے، جس سے اموات ہوتی ہیں۔ لمیے کا یہ بھی ماننا ہے کہ ’’معاوضہ دینے کا عمل تیز تر ہونا چاہیے۔‘‘
وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا کے کنزرویشن چیف، ڈاکٹر این وی کے اشرف کے پاس کسانوں کے لیے ایک بہترین تجویز ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہاتھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی فصلیں کھیت کے بیچ میں لگانی چاہئیں۔ لیموں، مرچ، شہد کی مکھیوں سے ہاتھی نفرت کرتے ہیں۔ انہیں کھیت کے کنارے لگانا چاہیے۔‘‘
تجاویز بہت ہیں، لیکن جنگلی جانوروں کے لیے سکڑتی ہوئی جگہوں اور بڑھتے ہوئے انسانی تجاوزات کے ساتھ، حل بہت کم ہیں۔ دیگر بہت سی پریشانیوں کے علاوہ دونوں گروپ خوف میں جی رہے ہیں اور آزادی سے محروم ہیں۔
دریں اثنا، جیسے ہی سورج آسمان کے ینچے اترتا ہے، نہانو کی بیوی اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ تمام کھڑکیاں اور دروازے مضبوطی سے بند ہیں۔ وہ اپنے پوتے، بیٹوں اور بہوؤں کو گھر میں واپس آنے کا حکم دیتی ہیں، اسی وقت نہانو ایک لاٹھی اور ٹارچ کے ساتھ کھیتوں میں رات گزارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ آج رکھوالی کرنے کی باری ان کی ہے۔
مترجم: شفیق عالم