اوڈھو جام اور ہوتھل پدمنی کے عشق کی کہانی کچھّ کی سب سے مشہور لوک کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سوراشٹر کے کچھ حصوں میں بھی کافی مقبول ہے، اور ضرور لوک کہانیوں کی طرح ہی سفر کرکے پہنچی ہوگی۔ الگ الگ خطوں اور زمانے میں مشہور اس کہانی کے کئی ورژن میں ہمیں ان کی الگ الگ تفصیلات ملتی ہیں۔ ان میں اوڈھو یا تو کسی آدیواسی برادری کا بہادر لیڈر ہے یا کیور کا شتریہ جانباز، اور ہوتھل ایک آدیواسی برادری کی قیادت کرنے والی بہادر خاتون ہے؛ کئی کہانیوں میں وہ اکثر ایک بد دعا کے نتیجہ میں زمین پر رہنے والی ایک غیبی کردار کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔
اپنی بھابھی میناوتی کی دعوتِ وصل کو ٹھکرانے کے سبب، اوڈھو جام کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ وہ پیرانا پاٹن میں اپنے ایک نانہالی رشتہ دار وسل دیو کے ساتھ رہتا ہے، جن کے اونٹوں کو سندھ کے نگر- سموئی کے سربراہ بمبنیا نے لوٹ لیا ہے۔ اوڈھو انہیں واپس لانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
ہوتھل پدمنی، چرواہا برادری سے تعلق رکھتی ہے، اور سندھ کے بمبنیا کے ساتھ اس کی بھی دشمنی ہے۔ اس نے ہوتھل کے والد کی ریاست کو تباہ کر دیا تھا اور ان کے مویشیوں کو بھی چُرا لیا تھا۔ ہوتھل نے اپنے مرتے والد سے ان کی بے عزتی کا بدلہ لینے کا وعدہ کیا تھا۔ جب وہ اوڈھو جام سے ملتی ہے، تب اپنے وعدے کو پورا کرنے کی مہم پر نکلی ہوئی ہے، اور ایک مرد جانباز کی پوشاک میں ہے، جسے کچھ کہانیوں میں ’’ہوتھو‘‘ اور کچھ میں ’’ایکّل مل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے ایک بہادر نوجوان فوجی مان کر اوڈھو جام اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ چونکہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا، اس لیے اوڈھو جام اور ہوتھل کے درمیان فوراً دوستی ہو جاتی ہے، اور دونوں مل کر بمبنیا کے آدمیوں سے لڑتے ہیں اور انہیں شکست دیتے ہیں، اور اونٹوں کے ساتھ لوٹ آتے ہیں۔
نگر- سموئی سے لوٹتے وقت دونوں کے راستے الگ ہو جاتے ہیں؛ اوڈھو پیرانا پاٹن کے لیے اور ہوتھو کنارا پہاڑ کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ اوڈھو جام، ہوتھو کو بھول نہیں پاتا ہے، اور کچھ دنوں بعد اپنے دوست کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ راستے میں ایک جھیل کے پاس وہ ایک بہادر فوجی کے مردانہ لباس اور اس کے گھوڑے کو دیکھتا ہے۔ جب اسے ہوتھل پانی میں نہاتے ہوئے نظر آتی ہے، تو اسے ہوتھل کی اصلی پہچان کا علم ہوتا ہے۔
ہوتھل کے عشق میں گرفتار اوڈھو اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ہوتھل بھی اس سے محبت کا اظہار کرتی ہے، لیکن شادی کے لیے ایک شرط رکھتی ہے: وہ صرف اوڈھو جام کے ساتھ رہے گی، اور تب تک ہی رہے گی جب تک اوڈھو اس کی شناخت پوشیدہ رکھے گا۔ ان کی شادی ہو جاتی ہے اور انہیں دو بہادر لڑکے پیدا ہوتے ہیں۔ برسوں بعد نشہ میں دھت ہو کر دوستوں کے درمیان، یا ایک دیگر ورژن کے مطابق، کسی عوامی مجلس میں اپنے چھوٹے بچوں کی غیر معمولی شجاعت کے بارے میں بتاتے ہوئے اوڈھو، ہوتھل کی پوشیدہ شناخت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ہوتھل، اوڈھو کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔
یہاں پیش کیے جا رہے گیت کو بھدریسر کے جُما واگھیر نے گایا ہے، جو اوڈھو جام کی زندگی میں فراق کی اس کہانی کو بیان کرتا ہے۔ اوڈھو جام غم زدہ ہے اور آنسوؤں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کا غم اتنا بڑا ہے، اس کے آنسو اتنے گہرے ہیں کہ ہجاسر جھیل میں سیلاب امنڈنے لگتا ہے۔ گیت میں ہوتھل، پدمنی کو شاہی عیش و آرام اور مہمان نوازی کا وعدہ کرکے واپس لوٹ آنے کی درخواست کیے جا رہا ہے۔



