ماجولی کی رہنے والی جامنی کہتی ہیں، ’’جو گھر ایری ریشم کے کیڑوں کو پالنے میں لگے ہوئے ہیں وہاں بچے اپنی ماؤں سے سب کچھ سیکھ رہے ہیں۔ مجھے تات باتی [بُنائی] کرنا یا بابن چلانا نہیں سکھایا گیا تھا۔ میں نے اپنی ماں کو یہ سب کرتے ہوئے دیکھ کر سیکھا تھا۔‘‘
وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر عورتیں تب اپنے ہتھ کرگھے سے بُنے گئے ریشمی کپڑے پہنتی تھیں، کیوں کہ تب مشین سے بنے کپڑے آج کی طرح بہت زیادہ دستیاب نہیں تھے۔ عورتیں، ایری، نونی اور موگا ریشم سے بنی چادر میخلا پہنتی تھیں۔ ’’عورتیں جہاں بھی جاتی تھیں، اپنی تاکوری [ہتھ کرگھا] ساتھ لے جاتی تھیں۔‘‘
یہ سب دیکھ کر جامنی بھی اس کام کی طرف متوجہ ہوئیں۔ ’’میں نے تبھی طے کر لیا تھا کہ میں بھی ایری ریشم کے کیڑے پالوں گی اور دوسروں کو بھی ایسا کرنا سکھاؤں گی۔‘‘ فی الحال، وہ ماجولی کی تقریباً ۲۵ عورتوں کو ایری سِلک کی بُنائی اور اس سے کپڑا تیار کرنے کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ ان کے کام کی ہندوستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی نمائش کی جاتی ہے، جس میں برطانوی میوزیم میں نمائش کے طور پر رکھا گیا ایک نمونہ بھی شامل ہے۔
جامنی کہتی ہیں، ’’ایری کپڑوں کی مانگ بہت زیادہ ہے، لیکن ہم اسے روایتی طریقوں سے تیار کرتے ہیں۔ دیگر جگہوں پر ایری سِلک کے کپڑے بھی مشنیوں پر بُنے جا رہے ہیں؛ اور بہار کے بھاگل پور سے آسام کے بازاروں میں سِلک کی سپلائی کی جا رہی ہے۔
ہاتھ سے بُنے ہوئے کپڑوں کی قیمت اس بات پر منحصر ہے کہ اسے بنانے میں کس قسم کے دھاگوں کا استعمال کیا گیا ہے، ساتھ ہی بُنائی کی تکنیک اور ڈیزائن سے جڑی پیچیدگیاں بھی معنی رکھتی ہیں۔ روایتی ڈیزائنوں والے ہاتھ سے تیار ایری سلک کے دوپٹوں کی قیمت ۳۵۰۰ روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مقامی بازاروں میں ہاتھ سے تیار سلک سے بنائی گئی چادر میخلا تقریباً ۸۰۰۰ روپے سے ۲۰-۱۵ ہزار روپے تک میں فروخت ہوتی ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’’پہلے آسامی لڑکیاں اپنے عاشقوں کے لیے گمچھا، رومال اور تکیے کے کور اور ہماری میسنگ لڑکیاں گلوک بُنتی تھیں۔‘‘ جامِنی کا ماننا ہے کہ اگر لوگ روایتی طریقوں کو فروغ نہیں دیں گے اور اسے اگلی نسل تک نہیں پہنچائیں گے، تو ان روایتوں سے جڑی شاندار روایت ختم ہو جائے گی۔ ’’اسی لیے میں اپنی صلاحیت کے مطابق ہر ممکن طریقے سے یہ کر رہی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں۔‘‘
یہ اسٹوری مرنالنی مکھرجی فاؤنڈیشن (ایم ایم ایف) سے ملی فیلوشپ کے تحت لکھی گئی ہے۔
مترجم: محمد قمر تبریز