ڈسٹرکٹ انڈسٹری پروموشن اینڈ انٹرپرینئر ڈیولپمنٹ سنٹر (ڈی آئی پی ای ڈی سی) کے مطابق، میرٹھ میں کرکٹ کی گیند بنانے والی ۳۴۷ اکائیاں ہیں۔ اس تعداد میں صنعتی علاقوں میں موجود بڑے کارخانے اور ضلع کے شہری اور دیہی رہائشی علاقوں میں واقع چھوٹی پروڈکشن اکائیاں شامل ہیں۔
حالانکہ، اس میں کئی ادھر ادھر موجود غیر منظم پیداواری مرکز اور گھریلو اکائیاں شامل نہیں ہیں، جہاں پوری گیندیں بنتی ہیں یا پھر کسی خاص کام کو کرایا جاتا ہے۔ ان میں میرٹھ ضلع کے پار موجود جنگیٹھی، گگول اور بھاون پور جیسے گاؤوں آتے ہیں۔ مدن کا کہنا ہے، ’’آج گاؤوں کے بغیر بالکل پورتی (سپلائی) نہیں ہوگی میرٹھ میں [کرکٹ کی گیندوں کی]۔‘‘
وہ بتاتے ہیں، ’’گاؤوں اور شہر کی بڑی فیکٹریوں میں زیادہ تر کاریگر جاٹو ہیں، کیوں کہ گیندیں چمڑے سے بنتی ہیں۔‘‘ سال ۱۹۰۴ کے ضلع گزیٹیئر کے مطابق، جاٹو یا چمار برادری (یوپی میں درج فہرست ذات کے طور پر درج) میرٹھ میں چمڑا صنعت میں کارکنوں کا سب سے بڑا سماجی گروپ تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’لوگوں کو کرکٹ کی گیند کی شکل میں چمڑے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، مگر جب اس کے ساتھ کام کرنے کی بات آتی ہے، تو انہیں مسئلہ ہونے لگتا ہے۔‘‘
ان کی فیملی کے پاس شوبھا پور میں چمڑے کا کارخانہ بھی ہے۔ یہ ایک واحد علاقہ ہے، جہاں کرکٹ کی گیند کی صنعت کے لیے کچے چمڑے کو پھٹکری سے صاف کیا جاتا ہے (پڑھیں: میرٹھ کے چمڑا کاریگروں نے ابھی ہار نہیں مانی ہے)۔ وہ کہتے ہیں، ’’پھٹکری سے چمڑا صاف کرنے کی بڑھتی مانگ کو دیکھ کر مجھے لگا کہ کرکٹ کی گیندوں کی مانگ کبھی کم نہیں ہوگی۔‘‘ بازار کے اچھے حالات دیکھ کر ۲۰ سال پہلے انہوں نے ’میسرز بی ڈی اینڈ سنس‘ کی شروعات کی تھی۔ یہ علاقے میں کرکٹ کی گیند بنانے والی دو اکائیوں میں سے ایک ہے۔
مدن کہتے ہیں کہ ایک گیند بنانے میں لگنے والے گھنٹوں کا صحیح صحیح حساب لگانا مشکل ہے کیوں کہ کئی کام ساتھ چلتے ہیں۔ موسم اور چمڑے کا معیار بھی اس میں لگنے والے وقت پر اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’دو ہفتے لگتے ہیں ایک گیند کو تیار ہونے میں کم از کم۔‘‘
مدن کی اکائی کے ملازم پہلے چمڑے کو پھٹکری سے صاف کرتے ہیں، لال رنگ میں رنگتے ہیں، دھوپ میں سُکھاتے ہیں، تیل یا جانوروں کی چربی سے چکنا کرتے ہیں اور پھر اسے نرم بنانے کے لیے لکڑی کے ہتھوڑے سے کچلتے ہیں۔ مدن کے مطابق، ’’سفید گیندوں کے لیے کسی رنگائی کی ضرورت نہیں پڑتی کیوں کہ پھٹکری سے صاف کی ہوئی کھال پہلے سے ہی سفید ہوتی ہے۔ ان کے لیے گائے کے دودھ سے بنے دہی کا استعمال چکنائی کے طور پر کیا جاتا ہے۔‘‘