یہ نہایت ہی اہم ہے، کیوں کہ یہ مقامی باشندوں کو ان مجوزہ جنگلات کو ختم کرنے کا فیصلہ لیتے وقت اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس کو وہ روایتی طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ مقامی باشندوں کو معاوضہ حاصل کرنے کا اہل بھی بناتا ہے، اگر وہ ان علاقوں کو صنعت کو دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں، مقامی باشندوں کو خود ان کے وسائل کی وجہ سے ہونے والی نفع بخش آمدنی میں کوئی حصہ نہیں مل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، او ایم سی نے، وہ یہاں سے جو بھی کانکنی کرے گا، اس کی فروخت قیمت ہر سال دو ہزار کروڑ روپے لگائی گئی ہے، جو کہ مائننگ کی مجوزہ مدت میں کل ۷۹ ہزار کروڑ روپے کے قریب ہوگی۔ ‘‘لیکن اس سے مقامی قبائلی لوگوں کو کیا ملے گا؟‘‘ ایک سینئر فاریسٹ آفیسر مجھ سے سوال کرتے ہیں۔
جنوری ۲۰۱۶ میں ترمیم شدہ شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبس (پریونشن آف ایٹروسٹیز) ایکٹ ایف آر اے قانون کو اور مضبوط بناتا ہے، جس میں جنگلاتی حقوق دینے سے انکار کرنے پر سزا کا انتظام کیا گیا ہے۔
لیکن اِن ساتوں گاؤوں میں، بہت سے لوگوں نے فاریسٹ رائٹس ٹائٹلس کے لیے درخواست دے رکھی ہے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی ابھی تک یہ حق نہیں ملا ہے۔ جن کو مالکانہ حق ملا ہے، انھیں بھی صرف چند ٹکڑے زمین (۲۵ سے ۸۰ ڈِسمل) کے ملے ہیں، حالانکہ انھوں نے اس سے کہیں زیادہ پر اپنا دعویٰ کیا تھا۔ مزید برآں، ضلع انتظامیہ نے ان میں سے دو گاؤوں کو کوئی ٹائٹل نہیں دیا ہے، یہ گاؤوں ہیں ڈونلا اور اوپر کینساری۔ کیونجھار میں ایف آر اے کے تحت دعویٰ کرنے والوں کے لیے فیلڈ ورک پروسیسنگ پر مامور ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر مجھ سے کہا کہ، ’’میرے سینئرس نے مجھ سے کہا کہ ڈونلا گاؤں کا جنگلاتی علاقہ کانکنی کے لیے او ایم سی کو دیا جانے والا ہے۔ اس لیے، ہمیں گاؤں والوں کے دعووں پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیے۔‘‘
مزید غیر قانونی کارروائی کا عالم یہ ہے کہ انِ ساتوں گاؤوں میں سے اب تک کسی کو بھی کمیونٹی ٹائٹل نہیں ملا ہے۔ حالانکہ انھوں نے روایتی طور پر گھیرا بندی کرکے اپنے کمیونٹی جنگل بنا رکھے ہیں، جلانے کی لکڑی جیسی جنگلات کی پیداوار کا تھوڑا بہت استعمال کرتے ہیں، اور وہ جنگل کی حفاظت کرنے کی جس روایت پر عمل کرتے ہیں، اس کے ذریعے انھیں ’جنگلاتی وسائل کے حقوق‘ بھی قانوناً ملے ہوئے ہیں۔
کیونجھار کے اُس وقت کے ڈسٹرکٹ کلکٹر بشنو ساہو نے اپنے ریکارڈ میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ یہاں پر کمیونٹی دعووں پر عمل کیوں نہیں کیا گیا، جب کہ ایف آر اے قانون کے تحت ایسا کیا جانا ضروری ہے ۔ بجائے اس کے، ان کے ذریعے ۱۹ جنوری، ۲۰۱۳ کو، او ایم سی کو جنگل دیے جانے کی حمایت میں تیار کیے گئے سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ ساتوں گاؤوں میں ایف آر اے حقوق دیے جا چکے ہیں۔
میں نے جب اڈیشہ حکومت میں جنگلات و ماحولیات کے سکریٹری کے عہدہ پر فائزہ ایس سی مہاپاترا سے رابطہ کیا، جن کے محکمہ نے او ایم سی کی طرف سے وزارتِ ماحولیات و جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی میں کلیئرنس درخواست جمع کی ہے، تو وہ کہتے ہیں، ’’میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا‘‘، اور جلدی سے فون رکھ دیتے ہیں۔ انھوں نے بعد میں میرے ذریعے کی گئی فون کال کا کوئی جواب نہیں دیا۔