مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع میں ہاتکنگلے تعلقہ کے کھوچی گاؤں کے کسانوں کے لیے ابھی بہت سال نہیں گزرے ہیں، جب ان کی آپس میں اس بات کو لے کر مقابلہ آرائی ہوا کرتی تھی کہ ایک ایکڑ کھیت میں زیادہ گنّے کون اُگائے گا۔ یہ روایت تقریباً ۶۰ سال پرانی تھی۔ یہ ایک دوستانہ اور صحت مند مقابلہ تھا جس سے کھیتی میں مصروف ہر آدمی مستفید ہوتا تھا۔ کچھ کسان تو فی ایکڑ ۸۰ ہزار سے ایک لاکھ کلو گنّا تک اُگا لیتے تھے۔ یہ عام پیداوار سے ڈیڑھ گنا زیادہ تھا۔
حالانکہ، یہ روایت اگست ۲۰۱۹ میں اچانک تب ختم ہو گئی، جب گاؤں کے کئی علاقے سیلاب کے پانی میں ۱۰ دنوں تک ڈوبے رہے اور گنّے کی کھیتی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ دو سال بعد جولائی ۲۰۲۱ میں زبردست بارش اور سیلاب نے پھر سے کھوچی کی گنّا اور سویابین کی فصل کو بھاری نقصان پہنچایا۔
کاشتکار اور کھوچی کی باشندہ گیتا پاٹل (۴۲ سال) کہتی ہیں، ’’اب کسان آپس میں اچھی پیداوار کی شرط نہیں لگاتے، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ کم از کم ان کا آدھا گنّا برباد ہونے سے بچ جائے۔‘‘ گیتا کو کبھی ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے گنے کی پیداوار بڑھانے کے لیے تمام ضروری تکنیکیں جان لی ہیں۔ لیکن، دو بار کے ان سیلابوں میں ان کے ۸ لاکھ کلو کا گنّا برباد ہو گیا۔ وہ کہتی ہیں، ’’کہیں کچھ ضرور غلط ہوا ہے۔‘‘ لیکن، ان کے ذہن میں اسباب کے طور پر ماحولیاتی تبدیلی کی بات شاید کہیں نہیں ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’’سال ۲۰۱۹ کے سیلاب کے بعد سے برسات کا رویہ پوری طرح سے بدل گیا ہے۔‘‘ سال ۲۰۱۹ تک ان کا روزمرہ کا معمول پوری طرح سے متعین ہوا کرتا تھا۔ اکتوبر-نومبر میں گنّے کی کٹائی کے بعد وہ سویابین، بھوئی مونگ (مونگ پھلی)، چاول کی الگ الگ قسمیں، ہائبرڈ جوار یا باجرا جیسی فصلیں اگایا کرتی تھیں، تاکہ مٹی کو اس کی غذائیت حاصل ہوتی رہے۔ ان کی زندگی اور کام میں سب کچھ پہلے سے متعینہ اور سوچا سمجھا ہوا کرتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔
’’اس سال ۲۰۲۲ میں مانسون ایک مہینہ کی تاخیر سے آیا۔ لیکن جب برسات شروع ہوئی، تو مہینہ بھر کے اندر سارے کھیت ڈوب گئے۔‘‘ اگست میں زبردست بارش کی وجہ سے قابل کاشت زمین کا ایک بڑا حصہ دو ہفتے تک پانی میں ڈوبا رہا۔ گنّے لگانے والے کسانوں کو اس سے بھاری نقصان ہوا، کیوں کہ حد سے زیادہ پانی نے فصل کو بڑھنے سے روک دیا اور انہیں خراب بھی کر دیا۔ پانی کی سطح کے زیادہ بڑھنے کی صورت میں پنچایت نے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے ان کو اپنا گھر خالی کر دینے کی وارننگ بھی دی۔



















