مینا اُس رات سو نہیں پائیں۔ بارش کا پانی ان کے گھر میں داخل ہو گیا تھا۔ کمزور ترپال موسلا دھار بارش میں ٹک نہیں سکا اور منٹوں میں ہی ٹوٹ گیا۔ مینا اور ان کی فیملی کو بھاگ کر ایک بند دکان کے سامنے پناہ لینی پڑی۔
’’ہم پوری رات [جولائی کی ابتدا میں] وہیں بیٹھے رہے، جب تک کہ بارش رک نہیں گئی،‘‘ وہ دوپہر میں مین روڈ کے کنارے ایک سفید پرنٹیڈ چادر پر آرام کرتے ہوئے گزارتی ہیں، ان کی دو سال کی بیٹی شمع ان کے بغل میں سو رہی ہے۔
اس موسلا دھار بارش کے بعد، مینا واپس آئیں اور اپنی رہائش گاہ کو دوبارہ ٹھیک کیا۔ تب تک ان کے کئی سامان – برتن، اناج، اسکول کی کتابیں – پانی میں بہہ چکے تھے۔
’’ہمارے پاس جو ماسک تھے، وہ بھی بہہ گئے،‘‘ مینا کہتی ہیں۔ ہرے کپڑے کے یہ ماسک انہیں لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں رضاکاروں نے دیے تھے۔ ’’اگر ہم ماسک پہنیں، تو اس سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہم پہلے سے ہی مردہ انسانوں کی طرح ہیں، اس لیے کورونا سے اگر ہمیں کچھ ہوجائے تو کس کو ہماری پرواہ ہے؟‘‘
مینا (جو صرف اپنا پہلا نام استعمال کرتی ہیں) اور ان کی فیملی – شوہر اور چار بچے – اپنے سامان کو بہتا ہوا دیکھنے کے عادی ہیں۔ اس مانسون کی شروعات کے بعد سے ایسا ایک سے زیادہ بار ہو چکا ہے اور یہ ہر سال ہوتا ہے – موسلا دھار بارش شمالی ممبئی کے کاندیولی مشرق میں ایک فٹ پاتھ پر بنی ان کی جھونپڑی کو توڑ دیتی ہے۔
لیکن پچھلے سال تک، جب بھاری بارش ہوتی تھی، تو یہ فیملی بھاگ کر آس پاس کے تعمیراتی مقامات پر پناہ لے سکتی تھی۔ اب یہ بند ہو گیا ہے۔ مینا، جن کی عمر تقریباً ۳۰ سال ہے، کہتی ہیں، ’’ہمیں اس بارش کی عادت پڑ چکی ہے، لیکن اس بار، کورونا نے ہمارے لیے مشکل کھڑی کر دی ہے۔ ہم ان عمارتوں میں جاتے اور انتظار کرتے تھے۔ چوکیدار ہمیں جانتے تھے۔ دکاندار بھی ہمیں دوپہر کے وقت اپنی دکانوں کے باہر بیٹھنے دیتے تھے۔ لیکن اب وہ ہمیں اپنے آس پاس چلنے بھی نہیں دیتے۔‘‘













