بھگولی ساہو پوال یا گھاس کے دو بنڈل لے کر شنکرداہ گاؤں سے دھمتری شہر تک، موسم کے حساب سے تقریباً روزانہ جاتے ہیں۔ وہ پوال یا گھاس کو کانوڑ نامی ایک چھڑی سے باندھتے ہیں، جسے وہ اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں۔ چھتیس گڑھ کی راجدھانی، رائے پور سے تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور، دھمتری میں بھگولی بنڈلوں کو چارے کے طور پر ان لوگوں کو بیچتے ہیں، جو جانور پالتے ہیں یا مویشیوں کے مالک ہیں۔
وہ دھمتری برسوں سے آتے جاتے رہے ہیں – ہفتہ میں چار دن، کبھی کبھی چھ دن، سبھی موسموں میں، صبح سائیکل سے اسکول جاتے ہوئے بچوں اور کام کی تلاش میں شہر کی طرف جاتے مزدوروں، کاریگروں اور تعمیراتی جگہوں پر کام کرنے والوں کے ساتھ۔
بھگولی اپنی عمر کے ۷۰ویں سال میں ہیں۔ دھمتری پہنچنے میں انھیں تقریباً ایک گھنٹہ کا وقت لگتا ہے، جو تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر دور ہے۔ کسی کسی دن انھیں یہی سفر دو بار کرنا پڑتا ہے – یعنی کل ۱۸ کلومیٹر۔ اس میں کسانوں سے پوال خریدنے یا نہر کے پاس، دھان کے کھیتوں یا سڑک کے کنارے اُگنے والی جنگلی گھاس کاٹنے میں لگنے والا وقت شامل نہیں ہے۔




