جے شری مہاترے جب گھارا پوری میں واقع اپنے گھر کے قریب جنگل میں لکڑیاں جمع کرنے گئی تھیں، تو انہیں کسی کیڑے نے کاٹ لیا تھا۔ دو لڑکیوں کی ۴۳ سالہ ماں جے شری نے اسے یہ سوچ کر نظر انداز کر دیا کہ شاید کوئی کانٹا چبھ گیا ہوگا۔ جنوری ۲۰۲۰ کی ہلکی سردیوں کی اس دوپہر کو وہ لکڑیاں لے کر جلد ہی گھر کی جانب روانہ ہو گئی تھیں۔
تھوڑی دیر بعد اپنے دروازے پر کھڑی ہو کر ایک رشتہ دار سے بات چیت کرنے لگیں۔ بات چیت کے دوران ہی وہ گر کر بیہوش ہو گئیں۔ شروعات میں وہاں موجود لوگوں پر گمان گزرا کہ کمزوری کی وجہ سے بیہوش ہو گئی ہیں، کیونکہ انہوں نے برت (روزہ) رکھا ہوا تھا۔
جے شری کی ۲۰ سالہ بیٹی بھاویکا اس سانحہ کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ بیہوش ہو گئی تھیں۔‘‘ نہ تو بھاویکا اس سانحہ کے وقت وہاں موجود تھیں اور نہ ہی ان کی چھوٹی بہن ۱۴ سالہ گوری، کیونکہ اس دن دونوں کسی رشتہ دار کے گھر پر تھیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے سنا، جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ جب جے شری کو تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ بھاویکا مزید کہتی ہیں، ’’کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے۔‘‘
کوئی شخص بھاگ کر جے شری کے شوہر ۵۳ سالہ مدھوکر مہاترے کو اطلاع دینے گیا، جو گھارا پوری جزیرے پر کھانے کی دکان چلاتے تھے۔ بحیرہ عرب میں واقع اس جزیرہ کی پہچان ایلیفینٹا کی مشہور غاروں کی وجہ سے ہے۔ ممبئی شہر کے قریب واقع یہ جگہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہاں کی چٹانی فن تعمیرات چھٹی سے آٹھویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہیں اور ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ جزیرے کے لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ سیاحت ہے۔ یہ لوگ یہاں ٹوپیاں، دھوپ کے چشمے، تحائف اور کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرتے ہیں؛ ان میں سے چند غاروں کے لیے رہنما (گائیڈ) کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
اگرچہ سیاحتی نقشے پر اس مقام کو نمایاں طور پر واضح کیا جاتا ہے، لیکن جزیرے پر واقع گھارا پوری گاؤں پبلک ہیلتھ سنٹر جیسی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ ایک سنٹر تقریباً دو سال قبل قائم کیا گیا تھا، لیکن اسے چلانے والا کوئی نہیں ہے۔ گاؤں کے ۱۱۰۰ افراد تین بستیوں، راج بندر، شیت بندر اور مورا بندر، میں رہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کشتیوں پر سوار ہوکر دوسرے مقامات پر جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہ سفر نہ صرف زیادہ مہنگے ہوتے ہیں، بلکہ طبی امداد میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں یا بعض صورتوں میں مہلک بھی ثابت ہوتے ہیں۔














