شوبھا ساہنی کو لگا کہ انہیں اپنے بیٹے کی موت کی اصلی وجہ معلوم ہے۔ لیکن کئی مہینوں بعد بھی وہ پورے یقین سے یہ نہیں کہہ سکتیں کہ موت کی اصلی وجہ وہی تھی۔
فروری ماہ کی ایک خاموش دوپہر کو، برہماسری گاؤں میں اپنے ایک کمرے کی دہلیز پر بیٹھی ۳۰ سالہ شوبھا یاد کرتی ہیں کہ کیسے ان کا چھ سال کا بیٹا بیمار پڑا تھا۔ انہوں نے بتایا، ’’اسے بخار تھا، پھر اس نے پیٹ میں درد کی شکایت کی۔‘‘
جولائی ۲۰۲۱ کے آخری دن چل رہے تھے، اور کچھ دنوں پہلے ہی اتر پردیش کے گورکھپور ضلع میں واقع ان کے گاؤں میں بھاری بارش کی وجہ سے سیلاب آیا ہوا تھا۔ یہ کوئی غیر معمولی سیلاب نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ایسا ہر سال ہوتا ہے۔ پانی نکلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
جب بھی بارش ہوتی ہے، برہماسری میں پانی بھر جاتا ہے اور گاؤں میں چاروں طرف کوڑا کچرا پھینکنے اور کھلے میں رفع حاجت کرنے کی وجہ سے اُس پانی میں انسانی فضلے اور گوبر بھی مل جاتے ہیں، جس سے آلودگی پھیل جاتی ہے۔ شوبھا نے بتایا، ’’پانی میں مرے ہوئے کیڑے مکوڑے، اور مچھر ہوتے ہیں۔ پھر یہ گندا پانی ہمارے گھروں میں گھُس جاتا ہے جہاں ہم کھانا پکاتے ہیں۔ ہمارے بچے بھی اسی پانی میں کھیلتے ہیں، چاہے ہم ان کو کتنا بھی منع کریں۔ مانسون کے موسم میں یہاں کے لوگ کافی بیمار پڑتے ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ پچھلے سال ان کے بیٹے کی موت ہو گئی۔ شوبھا نے بتایا، ’’سب سے پہلے ہم نے دو پرائیویٹ اسپتالوں میں اس کا علاج کرانے کی کوشش کی – پہلا اسپتال بڑہل گنج اور دوسرا سیکری گنج میں تھا – لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘
پھر، جب بخار کو تقریباً ایک ہفتے ہو گئے تو شوبھا، آیوش کو بیلگھاٹ کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) لے کر گئیں، جو کہ وہاں سے صرف ۷ کلومیٹر دور ہے۔ وہاں سے انہیں سب سے قریبی شہر، گورکھپو کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج (بی آر ڈی میڈیکل کالج) بھیج دیا گیا، جو کہ برہماسری سے ۵۰ کلومیٹر دور ہے۔










