امراوتی کا جی ایم سی ایچ، جو کہ مغربی وِدربھ کا ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، نے ۲۰۱۷ میں اس بحران کو بہتر طریقے سے کنٹرول کیا، کیوں کہ یہ کولین اسٹریز اس ٹیسٹ انجام دے سکتا ہے۔ کولین اسٹریز ایک خامرہ (اینزائم) ہے جو ایسیٹل کولائن (ایک نیورو ٹرانسمیٹر) کو ٹھیک طریقے سے کام کرنے کے لائق بناتا ہے۔ آرگینو فاسفیٹ زہر کولین اسٹریز کو روکتا ہے، جس کی وجہ سے بنیادی اعضا، یہاں تک کہ اعصابی نظام بھی کمزور ہونے لگتے ہیں، اور بالآخر انسان کی موت ہو جاتی ہے۔ امراوتی اسپتال میں اس قسم کے زہر کے لیے اینٹی ڈاٹس کا ذخیرہ بھی موجود ہے، یہ بات ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔
ایس آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ حکومت یوت مال کے دو تحصیل ہیڈکوارٹرس، وانی اور پوسد کے سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں آئی سی یو کی تعمیر ضرور کرائے، ساتھ ہی یوت مال جی ایم سی ایچ میں ۳۰ بستروں والا آئی سی یو، اور اکولہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اسپتال میں ۲۰ بستروں والا آئی سی یو بنائے، تاکہ حشرہ کش دواؤں کے زہر کے اسباب سے نمٹا جا سکے، جیسا کہ امراوتی اسپتال نے کیا تھا۔
اس نے یوت مال کے جی ایم سی ایچ میں جدید ترین ٹاکسی کولوجی لیب شروع کرنے کی سفارش کی ہے، کیوں کہ اس ضلع میں حشرہ کش دواؤں کے زہر سے بیمار پڑنے والے لوگوں کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ سال ۲۰۱۷ کی تباہی کے دوران، محکمہ صحت کے حکام نے ٹاکسی کولوجی کی فوری جانچ کے لیے خون کے نمونے نہیں بھیجے تھے، جو کہ زہر کا اثر ہونے کے بعد کا ایک ضروری قدم ہے۔
مونو کروٹو فوس پر پابندی لگائیں، اینٹی ڈاٹس تیار رکھیں
ایس آئی ٹی نے مونوکروٹوفوس پر مکمل پابندی لگانے کی بھی سفارش کی ہے، یہ ایک ایسا آرگینو فاسفیٹ ہوتا ہے جو فصلوں پر سلسلہ وار اور کانٹیکٹ ایکشن کو لاگو کرتا ہے، انسانوں اور پرندوں پر اس کے زہریلے اثرات کی وجہ سے بہت سے ممالک میں اس پر پابندی ہے۔
مہاراشٹر حکومت نے نومبر میں محدود مدت کے لیے یہ پابندی لگائی، جب اس نے اس کی فروخت اور مارکیٹنگ پر ۶۰ دنوں کے لیے روک لگا دی، لیکن مکمل پابندی نہیں لگائی۔ انسیکٹی سائڈس ایکٹ کے تحت مرکزی حکومت کو پورے ملک میں مونوکروٹوفوس پر پابندی لگانے کا اختیار ہے۔
ریاستیں بھی پیسٹی سائڈ مینوفیکچررس اور سیلرس کے لائیسنس رد کر سکتی ہیں، یا نئے لائیسنس جاری کرنا یا انھیں رنیو کرنا روک سکتی ہیں۔ پنجاب نے ایسا کیا ہے – جنوری ۲۰۱۸ کے اخیر میں اس نے ۲۰ پیسٹی سائڈس کے لیے نئے لائیسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں مونوکروٹوفوس بھی شامل ہے، جسے اقوام متحدہ کی غذائی اور زرعی تنظیم نے ’’نہایت مہلک‘‘ قرار دیا ہے۔ کیرالہ نے مونوکروٹوفوس پر حال ہی میں پابندی لگائی ہے۔ اور سکم، جو ایک مکمل آرگینک ریاست ہے، کسی بھی کیمیکل پیسٹی سائڈ کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
ایس آئی ٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ حکومت کو حشرہ کش دواؤں کے استعمال کی اجازت اس وقت تک نہیں دینی چاہیے، جب تک کہ زہر پھیلنے کی حالت میں اس کے اینٹی ڈاٹ بھی دستیاب نہ ہوں۔ ایس آئی ٹی رپورٹ بتاتی ہے کہ پودوں کو جلدی بڑا کرنے والے مادوں کے استعمال میں تیزی آئی ہے، لہٰذا حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس قسم کے کیمیکل کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کی طویل مدتی سائنسی جانچ کرائے۔
رپورٹ میں ایگریکلچر ایکسٹینشن سسٹم – ایگریکلچر یونیورسٹیز، یا ریاستی زرعی محکمہ کی مکمل درجہ بندی، نئی حشرہ کش دواؤں کی آمد یا پیسٹ کنٹرول ٹکنالوجیز اور ان کے مناسب استعمال کا پتہ لگانے والے کسی سسٹم کا ذکر نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات میں یہ سسٹم اہل رول ادا کر سکتے ہیں۔
بجائے اس کے، کسان نئے کیمیکلس کے بارے میں معلومات کے لیے اِن پُٹ ڈیلروں یا دکانداروں پر منحصر ہیں۔ اور کسی ڈیلر یا دکاندار کو جب کوئی کیمیکل بیچنا ہوتا ہے، تو وہ خریدار کو ان کیمیکلس کے خطرناک زہر کی اطلاع نہیں دیتا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ کسان کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچنے اور اچھی پیداوار اور بہتر منافع کے لیے پودوں کے بہتر طریقے سے بڑھنے کی خواہش میں، اِن پُٹ ڈیلروں کی صلاح پر حشرہ کش دواؤں کا تجربہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے، ’’پیسٹی سائڈس اور دیگر کیمیکلس کی مدد سے [۲۰۱۷ کے چھڑکاؤ سیزن میں] نئے مرکبات بنانے کی وجہ سے انتہائی اومس بھرے ماحول میں زہر کے پھیلنے میں اضافہ ہوا اور سانس کے ذریعہ جسم کے اندر اور چھونے سے بدن پر زہر کا اثر ہونے لگا۔‘‘