’’ہم اپنی مٹی میں کیمیکلس کا استعمال نہیں کرتے۔ کیڑوں کو مارنے کے لیے مٹی کو زہر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مٹی کی صحت اگر اچھی ہوئی، تو یہ ہر چیز کا خیال رکھتی ہے،‘‘ مہندر نَوری کہتے ہیں، جن کے کھیت نیامگیری پہاڑیوں سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر مشرق میں واقع ہیں۔ ’’آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے کھیت کے بند پر مہوا یا سہج کا درخت لگا دیں جو پرندوں، چھپکلیوں اور مینڈکوں کو پناہ دیتا ہے۔ وہ ہماری فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کا خیال رکھیں گے۔‘‘
مہندر کی دو ایکڑ زمین، جنوب مغربی اوڈیشہ کے رایگڈا ضلع کے بشم کٹک بلاک میں تقریباً ۱۰۰ لوگوں کے ایک گاؤں، کیرندیگوڈا میں ہے۔ یہاں کے زیادہ تر کنبے کوندھ آدیواسی برادری سے ہیں، حالانکہ نَوری فیملی کا تعلق ڈورا برادری سے ہے۔
اپنی زمین پر، ۳۰ سالہ مہندر اور ۶۲ سالہ ان کے والد لوکناتھ، ۳۴ قسم کی فصلیں اُگاتے ہیں – اور کل ملا کر ۷۲ ناقابل یقین ذیلی قسمیں۔ وہ اپنے کھیت کے مختلف ٹکڑوں پر انھیں باری باری سے اُگاتے ہیں، اور ان کی فصلوں میں شامل ہیں چھوٹا باجرا (جیسے سوان اور سِکرا)، دالیں (ارہر اور ہرا چنا سمیت)، تلہن (جیسے اَلسی، سورج مکھی اور مونگ پھلی)، قند، ہلدی، ادرک، ہری سبزیاں، ٹماٹر، بینگن وغیرہ۔ ’’ہم کھانے کے لیے کبھی بھی بازار پر منحصر نہیں رہتے،‘‘ مہندر کہتے ہیں۔
گاؤں والے نیامگیری پہاڑی سے بہنے والے چشمے کے پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ پانی کو موڑ کر اپنے کھیتوں کی طرف لانے کے لیے پتھروں سے بند بناتے ہیں۔ ’’پچھلے چار سالوں میں یہاں کے موسمیات کی حالت برخلاف رہی ہے،‘‘ لوکناتھ کہتے ہیں، ’’لیکن ہماری فصلوں نے ہمیں تمام مخالف حالات سے بچائے رکھا ہے۔ میں نے کبھی کسی سے قرض نہیں لیا۔ ایسا صرف ہمارے روایتی زرعی نظام کے سبب ہوا۔‘‘ فیملی کا گزر بسر اپنی فصل سے ہوتا ہے اور باقی بچ گئی پیداوار کو وہ مُنیگوڈا اور بشم کٹک کے ہفتہ وار بازار میں بیچ دیتے ہیں۔





