ہماری ٹرین ناگپور ریلوے جنکشن پہنچ چکی تھی۔ پچھلے سال دسمبر میں تب دوپہر کے آس پاس کا وقت تھا۔ جودھپور-پوری ایکسپریس ناگپور میں اپنا انجن بدلتی ہے، اس لیے وہاں تھوڑی دیر کے لیے رکتی ہے۔ پلیٹ فارم پر مسافروں کا ایک گروپ تھا، جو اپنے سر پر تھیلے لے کر جا رہے تھے۔ وہ مغربی اوڈیشہ کے موسمی مہاجر مزدور تھے، جو کام کے لیے سفر کر رہے تھے اور سکندرآباد جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ اوڈیشہ میں (ستمبر سے دسمبر کے درمیان) فصل کی کٹائی کے بعد، بہت سے غریب کسان اور بے زمین زرعی مزدور تلنگانہ میں اینٹ کے بھٹوں پر کام کرنے کے لیے اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان میں سے کئی آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور دیگر ریاستوں کے بھٹوں پر بھی جاتے ہیں۔
رمیش (وہ اپنا پورا نام نہیں دینا چاہتے تھے)، جو اس گروپ میں تھے، نے بتایا کہ یہ سبھی مہاجر مزدور بارگڑھ اور نواپاڑہ ضلعوں کے ہیں۔ اپنے گاؤوں سے ان کا لمبا سفر سڑک کے راستے سے کانابنجی، ہری شنکر یا تیروکالا ریلوے اسٹیشنوں تک کے لیے شروع ہوتی ہے، جہاں سے وہ ناگپور جانے والی ٹرین پکڑتے ہیں، پھر تلنگانہ کے سکندرآباد پہنچنے کے لیے ٹرینوں کو بدلتے ہیں۔ وہاں سے، وہ مشترکہ چار پہیوں والی گاڑی سے بھٹوں تک پہنچتے ہیں۔
مزدور اگست-ستمبر میں نواکھائی تہوار، جب وہ فیملی کے دیوتا کو چاول کی نئی پیداوار کا بھینٹ چڑھاکر فصل کا جشن مناتے ہیں، سے ٹھیک پہلے ٹھیکہ دار سے پیشگی رقم (تین بالغوں کے گروپ کے لیے ۲۰ ہزار روپے سے ۶۰ ہزار روپے تک) لیتے ہیں۔ پھر، ستمبر اور دسمبر کے درمیان، وہ اینٹ بھٹوں پر جاتے ہیں، کام کرتے ہیں اور چھ مہینے تک وہاں رہتے ہیں، اور مانسون سے پہلے لوٹ آتے ہیں۔ کبھی کبھی، وہ اپنی پیشگی رقم کو چکانے کے لیے کافی محنت اور لمبے عرصے تک کام کرتے ہیں، یہ بندھوا مزدوری کی ایک شکل ہے۔



