دادھرے میں زراعت ہی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کٹھولے کہتے ہیں، ’’جو لوگ اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں وہ کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، اور جو کھیتی کا انتخاب کرتے ہیں وہ اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارا مقصد دونوں کو ملانا ہے۔‘‘ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طلباء کے لیے کھیتی سے تعلق بنائے رکھنا کتنا ضروری ہے: ’’بہت سے لوگ شہر نہیں جا پاتے۔ اگر ان کے پاس کھیتی کرنے کا متبادل نہیں ہوتا، تو وہ چھوٹے موٹے کام کرنے کو مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘
ضلع پریشد اسکول سے طلباء کے پاس ہونے کے بعد، کٹھولے اور ان کے چاروں ساتھی ان بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ گاؤں کے ایک ہال میں کلاسیں لگائی جاتی ہیں۔ ان کلاسوں کا مقصد طلباء کو ۱۰ویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے، جس کا وہ پرائیویٹ امتحان دیتے ہیں۔
اس غیر رسمی اسکول کے شروع ہونے کے دو سال بعد، ۹۲ طلباء – ۴۸ لڑکیاں اور ۴۴ لڑکے – اس میں پڑھ رہے ہیں، اور یہ تمام طلباء آدیواسی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسکول کو چلانے میں ہر سال ۳ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے – جن میں سے زیادہ تر پیسہ دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں سے عطیہ کی شکل میں آتا ہے۔ طلباء کو لے کر کہیں کا دورہ کرنے جیسے باقی تمام اخراجات پانچوں ٹیچر سنبھالتے ہیں۔ یہ پانچوں ٹیچر ضلع کے دیگر اسکولوں میں پڑھا کر معاش کماتے ہیں۔
بورڈ کے امتحان کے لیے طلباء کو تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ امید کرتے ہیں کہ طلباء کو ۸ویں جماعت کے نصاب جتنی سمجھ تو ہونی چاہیے، لیکن کئی بچوں کو شروع شروع میں ایک جملہ تک بنانے میں مشکل ہوتی ہے۔ کٹھولے کہتے ہیں، ’’۱۳ سال کے کچھ بچوں کو جو چیزیں ہم پڑھاتے ہیں، وہ انہیں تبھی پڑھا دیا جانا چاہیے تھا جب وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔ کئی بچے تو عام گنتی بھی بہت مشکل سے کر پاتے ہیں۔ تقریباً سبھی بچوں پر انفرادی طور پر توجہ دینا ضروری ہو جاتا ہے۔‘‘
گاؤں کے ضلع پریشد اسکول میں لائبریری نہیں ہے، اور وہاں مناسب تعداد میں تربیت یافتہ ٹیچر بھی نہیں ہیں۔ اس کی قیمت طلباء کو چکانی پڑتی ہے: نچلی سطح کی تعلیم کے طور پر۔ کٹھولے کہتے ہیں، ’’چیزوں کو سمجھنے کی بجائے انہیں رٹ کر یاد کرانے پر زور دیا جاتا ہے۔‘‘ نتیجتاً، سبھی کے مضمون ایک جیسے ہوتے ہیں۔ دادھرے کی ایک دیگر ٹیچر اور پرہلاد کی بھابھی، روشنی کٹھولے کہتی ہیں کہ مثلاً، ’’سب کی ماں ہمیشہ نیلی ساڑی پہنتی ہے۔‘‘
گاؤں میں تعلیم کی بہتری کے لیے، کٹھولے کا پہلا قدم لائبریری کی تعمیر کرنا تھا۔ غیر رسمی طریقے سے چلنے والی کلاس کے ایک کونے میں اب مراٹھی، ہندی، اور انگریزی کی مختلف کتابیں رکھی ہوتی ہیں: ’ہانا کا سوٹ کیس‘ سے لے کر بیوم کیش بخشی کی کہانیوں تک۔ پڑھنے سے طلباء میں آزادانہ طور پر سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ کٹھولے کہتے ہیں، ’’نصاب سے باہر کا مواد پڑھا کر ہی طلباء کو آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنا سکھایا جا سکتا ہے۔‘‘
ان کوششوں کے نتائج واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں: بہت مشکل سے کچھ لکھ پانے والے طلباء اب کچھ ایسے مضمون لکھنے لگے ہیں جو کافی جذباتی ہوتے ہیں، اور ان کے پیچیدہ حقائق کا اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ان سے اپنے گاؤں کے بارے میں بیان کرنے کے لیے کہا گیا، تو ۱۴ سالہ ویشالی کاوٹے نے جہیز کی رسم کے بارے میں لکھا، اور شادیوں کی فضول خرچی پر سوال اٹھایا۔ اس نے لکھا، ’’اوسط آمدنی والے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کیسے کریں گے؟ اپنی استعداد سے زیادہ خرچ کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔‘‘