’’پچھلے سال میں نے صرف پانچ جگہوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ریکھا نارا کوٹی لِنگم کہتے ہیں، جو ایک مرد فنکار اور پتلی باز منڈلی ’شری پرسنن جنے بروندھم‘ کے بانی ہیں۔
۴۸ سالہ کوٹی لنگم ایک ماہر فنکار ہیں، جنہوں نے ۱۲ سال کی عمر سے ہی اس فن میں اپنا کریئر شروع کر دیا تھا اور اب تک ۲۵۰۰ سے زیادہ شو کر چکے ہیں۔ ۲۵ سال پہلے اپنا گروپ شروع کرنے سے قبل، وہ اپنے والد، بالا جی کی منڈلی میں گانا گاتے اور مردنگم بجاتے تھے۔
’’میں نے یہ ہنر اپنے والد سے دیکھا، جنہوں نے اسے اپنے والد سے سیکھا تھا،‘‘ کوٹی لنگم کے ۶۰ سالہ بھائی، ریکھا نارا ہنومنت راؤ کہتے ہیں، وہ بھی اسی منڈلی کا حصہ ہیں۔ ’’ہم ایک بیل گاڑی پر ساز [ڈھول، ہارمونیم، اسٹیج کے سامان] اور روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے برتن اور کپڑے لاد لیتے اور کٹھ پتلی کا شو کرنے کے لیے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جایا کرتے تھے۔‘‘
لیکن اب فنکاروں کو حیدر آباد کے روندر بھارتی، چنئی کی مدراس یونیورسٹی اور تروپتی کے برہموتسو تہوار جیسے ثقافتی مقامات پر اپنا شو دکھانے کے لیے کبھی کبھار ہی مدعو کیا جاتا ہے۔









