بنگلورو شہر کی گلیوں میں جیسے ہی ’کٹڑ کٹڑ کٹڑ کٹڑ…‘ کی آواز سنائی دیتی ہے، بچوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ کھلونے بیچنے والا آ گیا۔ یہ آواز دراصل لالی پاپ کی شکل کے ایک کھلونے، کٹکیٹی کو گھمانے سے نکلتی ہے۔ آواز سنتے ہی ہر بچہ اسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر گلی محلے اور ٹریفک سگنلوں پر کثرت سے فروخت ہونے والے اس چمکدار اور بجنے والے کھلونے کو بیچنے والے اسے مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع سے لے کر آتے ہیں، جو کہ یہاں سے ۲۰۰۰ کلومیٹر سے بھی زیادہ دور ہے۔ اس کھلونے کو بنانے والا ایک شخص فخر سے کہتا ہے، ’’ہمارے ہاتھوں سے بنے کھلونے دور دور تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر ہم وہاں جانا بھی چاہیں تو نہیں جا سکتے…لیکن ہمارا کھلونا وہاں پہنچ جاتا ہے…یہ خوش قسمتی کی بات ہے۔‘‘
مرشد آباد کے ہریہر بلاک میں واقع رام پاڑہ گاؤں کے مرد و خواتین دونوں ہی کٹکیٹی بناتے ہیں (اسے بنگالی زبان میں کوٹکوٹی بھی کہتے ہیں)۔ رام پاڑہ میں اپنے گھر پر کٹکیٹی بنانے والے تپن کمار داس بتاتے ہیں کہ اس میں استعمال ہونے والی مٹی وہ گاؤں کے چاول کے کھیتوں سے، اور بانس کی چھوٹی چھوٹی چھڑیاں دوسرے گاؤں سے لاتے ہیں۔ ان کی پوری فیملی اس کھلونے کو بناتی ہے۔ وہ اس میں رنگ، لوہے کے تار، رنگین کاغذ – اور یہاں تک کہ پرانی فلموں کے ریل بھی استعمال کرتے ہیں۔ داس، جو کچھ سال پہلے کولکاتا کے بڑا بازار سے بڑی مقدار میں فلموں کے ریل لے کر آئے تھے، بتاتے ہیں، ’’فلموں کی ریل سے ایک ایک انچ کا ٹکڑا کاٹ کر انہیں [بانس کی قمچی کے] چیرے میں گھُسا دیا جاتا ہے۔ اس سے چار فَلَیپ (دامن) بن جاتے ہیں۔‘‘ فلیپ کے حرکت کرنے سے کٹکیٹی میں آواز نکلتی ہے۔
ایک کھلونا فروش بتاتا ہے، ’’ہم اسے یہاں لا کر بیچتے ہیں…بغیر اس چیز پر دھیان دیے کہ یہ [جس ریل سے ان ٹکڑوں کو کاٹا گیا ہے] کون سی فلم ہے۔‘‘ ریل میں کیپچر کیے گئے فلم کے مشہور اداکاروں پر نہ تو کوئی خریدار دھیان دیتا ہے اور نہ ہی کھلونا فروش۔ ایک دوسرا کھلونا فروش کٹکیٹی دکھاتے ہوئے کہتا ہے، ’’یہ رنجیت ملک ہیں، جو ہمارے گھر، بنگال کے تھے۔ میں نے ایسے کئی لوگوں کو دیکھا ہے۔ پرسن جیت، اُتّم کمار، ریتو پرنا، ستابدی رائے…اس میں کئی فلمی اداکار ہیں۔‘‘


