’’اوہ، وہ یہاں صرف ہمارے ’مہمان خانہ‘ کے بارے میں تفتیش کرنے آئی ہے،‘‘ رانی وہاں اپنی ’روم میٹ‘، لاوَنیَا سے کہتی ہے۔ دونوں ہمارے دورہ کے مقصد کو جان کر راحت محسوس کرتی ہیں۔
مدورئی ضلع کے ٹی کلّو پٹّی بلاک کے کوولاپورم گاؤں میں تب ہلچل مچ گئی، جب ہم نے پہلی بار مہمان خانہ کے بارے میں اور وہاں جنوری کے شروع میں جانے کے لیے پوچھ گچھ کی تھی۔ مردوں نے، دبی ہوئی آواز میں بولتے ہوئے، ہمیں کچھ دوری پر ڈیوڑھی کے اوپر بیٹھی دو خواتین - دونوں نوجوان مائیں – کی طرف اشارہ کرکے جانے کو کہا۔
’’وہ دوسری طرف ہے، چلو چلتے ہیں،‘‘ عورتیں کہتی ہیں اور ہمیں تقریباً آدھا کلومیٹر دور، گاؤں کے ایک کونے میں لے جاتی ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے، تو ویرانے میں بنے ہوئے دو کمرے، مبینہ ’مہمان خانہ‘ سنسان محسوس ہوتا ہے۔ حیران کن طریقے سے، دو چھوٹے ڈھانچوں کے درمیان موجود نیم کے ایک درخت کی شاخوں پر بوریاں ٹنگی ہوئی ہیں۔
مہمان خانہ میں ’مہمان‘ حیض والی عورتیں ہیں۔ حالانکہ، وہ یہاں کسی دعوت نامہ کی وجہ سے یا اپنی خواہش سے نہیں آئی ہیں۔ بلکہ انہیں، مدورئی شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور واقع ۳۰۰۰ باشندوں کے اس گاؤں میں سختی سے نافذ معاشرتی پیمانوں کے سبب، یہاں وقت گزارنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔ مہمان خانہ میں جن دو عورتوں سے ہمارا سامنا ہوتا ہے، یعنی رانی اور لاونیا (یہ ان کے اصلی نام نہیں ہیں)، انہیں یہاں پانچ دنوں تک قیام کرنا ہوگا۔ حالانکہ، بلوغت کو پہنچنے والی لڑکیوں کو یہاں پورے ایک مہینے تک محدود رکھا جاتا ہے، جیسا کہ زچگی کے بعد عورتوں کو ان کے نومولود بچوں کے ساتھ۔
’’ہم اپنی بوریاں کمرے میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں،‘‘ رانی کہتی ہیں۔ بوریوں میں علیحدہ کیے ہوئے برتن ہوتے ہیں، جن کا استعمال عورتوں کو حیض کے دوران کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی کھانا نہیں پکایا جاتا۔ گھر کا کھانا، جنہیں اکثر پڑوسیوں کے ذریعے پکایا جاتا ہے، عورتوں کو اِن برتنوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ جسمانی رابطہ سے بچنے کے لیے، انہیں بوریوں میں نیم کے درخت پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ ہر ایک ’مہمان‘ کے لیے برتنوں کے الگ الگ سیٹ ہیں – بھلے ہی وہ ایک ہی فیملی سے ہوں۔ لیکن صرف دو ہی کمرے ہیں، جسے انہیں شیئر کرنا پڑتا ہے۔











