جنگل کے راجا سے آپ انتظار نہیں کروا سکتے۔
شیروں کو آنا تھا – وہ بھی سینکڑوں میل دور گجرات سے۔ لہٰذا ہر کسی کو یہ جگہ خالی کرنی پڑی تاکہ ان کے یہاں آنے پر انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
یہ اچھی بات بھی تھی۔ بھلے ہی مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں بسے پیرا جیسے گاؤوں کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب ہوگا کیسے۔
کونو پارک کے باہر واقع اگارا گاؤں میں ہماری ملاقات رگھو لال جاٹو سے ہوئی، جن کی عمر ۷۰ سال سے زیادہ ہے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے ہم سے کہا، ’’شیروں کے یہاں آنے سے یہ علاقہ بہت مشہور ہو جائے گا۔ ہمیں گائیڈ کی نوکری ملے گی۔ اس علاقے میں ہم دکانیں اور ڈھابے (یعنی کھانے کے ہوٹل) کھول سکتے ہیں۔ ہماری فیملی کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔‘‘
رگھو لال آگے کہتے ہیں، ’’بدلے میں ہمیں آبپاشی کی بہتر سہولت سے لیس زرخیز زمینیں، ہر موسم میں کام کرنے والی اچھی سڑکیں اور پورے گاؤں میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات حاصل ہوں گی۔‘‘
وہ کہتے ہیں، ’’سرکار نے تو ہم سے یہی وعدہ کیا تھا۔‘‘
اسی وعدے پر یقین کرکے پیرا گاؤں سمیت کونو نیشنل پارک کے اندر واقع ۲۴ گاؤوں کے تقریباً ۱۶۰۰ کنبوں نے اپنے گھروں کو خالی کر دیا تھا۔ وہ بنیادی طور سے سہریا آدیواسی، دلت اور غریب او بی سی ذات کے لوگ تھے۔ ان کی بے دخلی میں بلا وجہ ایک قسم کی جلد بازی دکھائی گئی۔
اس کام کے لیے بڑی تعداد میں ٹریکٹر منگوائے گئے، اور کئی نسلوں سے جنگل میں رہنے والے ان لوگوں کو اپنا گھر بار اور ساز و سامان چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان کے پرائمری اسکول، ہینڈ پمپ، کنویں اور یہ لوگ جن زمینوں کو نسلوں سے جوتتے چلے آئے تھے، سبھی کچھ چھوٹ گئے۔ یہاں تک کہ ان کے مویشیوں کو بھی ان کے ساتھ نہیں جانے دیا گیا، کیوں کہ جنگل جیسے لمبے چوڑے چراگاہ دستیاب نہیں ہونے کی وجہ سے وہ مویشی ایک بوجھ ہو سکتے تھے۔
اس واقعہ کو اب ۲۳ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اور وہ اب بھی شیروں کے وہاں آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔


















