مانسون کی پہلی بارش ثانیہ ملّانی کی پیدائش کے دن کی گئی پیشن گوئی کی یاد کو ہمیشہ تازہ کر دیتی ہے۔
ان کی پیدائش جولائی ۲۰۰۵ میں ہوئی تھی۔ اس سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل مہاراشٹر میں آئے خوفناک سیلاب نے ۱۰۰۰ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ ۲۰ ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ ایسے میں، جب ثانیہ پیدا ہوئیں تو لوگوں نے ان کے ماں باپ سے کہا تھا، ’’اس کی پیدائش سیلاب کے دوران ہوئی ہے؛ اس لیے یہ اپنا زیادہ تر وقت سیلاب میں ہی گزارے گی۔‘‘
لہٰذا، جولائی ۲۰۲۲ کے پہلے ہفتہ میں جب تیز بارش ہونے لگی تو ۱۷ سال کی ہو چکیں ثانیہ کو وہ بات پھر سے یاد آ گئی۔ مہاراشٹر کے کولہا پور ضلع کے ہاتکنگلے تعلقہ کے بھینڈ وَڈے گاؤں میں رہنے والی ثانیہ کہتی ہیں، ’’جب بھی میں یہ سنتی ہوں کہ پانی واڑھت چالّے [پانی کی سطح بڑھنے لگی ہے]، تو میں ڈر جاتی ہوں کہ سیلاب دوبارہ آنے والا ہے۔‘‘ یہ گاؤں اور اس میں رہنے والے ۴۶۸۶ لوگ سال ۲۰۱۹ سے اب تک دو تباہ کن سیلاب دیکھ چکے ہیں۔
ثانیہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، ’’اگست ۲۰۱۹ میں آئے سیلاب کے دوران، محض ۲۴ گھنٹے کے اندر ہمارے گھر میں سات فٹ پانی بھر گیا تھا۔‘‘ اچھی بات یہ رہی کہ مُلّانی فیملی، گھر کے اندر پانی داخل ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہی، لیکن اس واقعہ کا ثانیہ کے ذہن پر بہت گہرا اثر پڑا۔
جولائی ۲۰۲۱ میں سیلاب نے ایک بار پھر اس گاؤں میں دستک دی۔ اس بار، ان کی فیملی کو گاؤں کے باہر بنے ایک سیلاب راحت کیمپ میں تین ہفتے تک پناہ لینی پڑی، اور جب گاؤں کے حکام کو یہ محسوس ہوا کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے تب جا کر یہ لوگ اپنے گھر لوٹے۔
ثانیہ ایک ٹائیکانڈو چمپئن ہیں، جو بلیک بیلٹ کے لیے ٹریننگ حاصل کرنا چاہتی تھیں، لیکن ۲۰۱۹ کے سیلاب نے ان کی اس ٹریننگ کو بری طرح متاثر کیا۔ گزشتہ تین سالوں سے وہ تھکن، بے چینی، چڑچڑاپن اور فکرمندی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں اپنی ٹریننگ پر توجہ مرکوز نہیں کر پا رہی ہوں۔ میری ٹریننگ اب بارش پر منحصر ہے۔‘‘





















