انہوں نے گہری نظر سے دیکھا اور سخت لہجے میں پوچھا، ’’ارے! تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘
مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ ندی کے جس کنارے پر میری انیرودھ سے ملاقات ہوئی ہے وہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے۔
انیرودھ سنگھ پاتر، ندی میں اترتے ہوئے اچانک رکے اور مڑ کر مجھے وارننگ دی: ’’لوگ اُس جگہ پر لاشوں کو جلاتے ہیں۔ کل ہی کسی کی موت ہوئی تھی۔ چلو، وہاں کھڑے مت رہو۔ میرے پیچھے آؤ!‘‘
مجھے لگا کہ وہ صحیح تو کہہ رہے ہیں۔ مُردوں کو ان کے ذریعے حاصل کردہ سکونت میں آرام کرنے دینے میں ہی بھلائی ہے۔
میں نے انہیں مغربی بنگال کے پرولیا ضلع میں کنگسابتی ندی کے کنارے کی دو میٹر اونچی جگہ سے نیچے اتر کر، گھٹنے تک گہرے پانی میں احتیاط سے داخل ہوتے دیکھا۔ ان کے ساتھ قدم ملانے کی پوری کوشش کرتے ہوئے، میں بھی تیزی سے کنارے پر پہنچ گئی۔
ان کی چستی دیکھ کر ان کی عمر کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں اُس ۵۰ سالہ شخص سے پوچھنے سے خود کو نہیں روک سکی، ’’کاکا، آپ ندی میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘
کمر میں بندھی ایک سفید پوٹلی کو ڈھیلا کرتے ہوئے، انیرودھ نے احتیاط سے ایک جھینگے کو باہر نکالا اور بچوں جیسے جوش کے ساتھ کہا، ’’چنگری [جھینگا] دکھائی دے رہا ہے؟ آج دوپہر کے کھانے میں ہم [وہ اور ان کی فیملی] یہی کھائیں گے۔ شُکنو لونکا اور روسون کے ساتھ تلنے کے بعد، یہ جھینگے گوروم بھات کے ساتھ بہت اچھے لگتے ہیں۔‘‘ جھینگے کو سوکھی لال مرچ اور لہسن کے ساتھ پکایا جاتا ہے، اور گرما گرم چاول میں ملا کر کھایا جاتا ہے – سننے میں ہی ذائقہ دار لگ رہا ہے۔






