برہم پتر ندی میں دیسی کشتیاں، روزانہ صبح کو متعدد چار – ایسے چھوٹے جزیرے جو لگاتار کٹ کر ندی میں ملتے جا رہے ہیں – سے ڈیلی ویج ورکرز کو، آسام کے دھوبری ضلع کے دھوبری ٹاؤن لے آتی ہیں۔ پڑوسی ریاست میگھالیہ سے بھی بانس کے لٹھوں کے بیڑے یہاں پہنچتے ہیں، جو دھوبری میں برہم پتر ندی میں آکر ملنے والی اس کی معاون گدادھر ندی سے بہہ کر یہاں آتے ہیں۔
لیکن اس سنگم پر اب ذریعہ معاش محدود ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران بانس کاٹنے والوں کی مانگ میں کمی آئی ہے۔ ان بانسوں کا استعمال باڑ، پینل، بانس کی دیوار اور لکڑی کے پلائی ووڈ بنانے میں کیا جاتا ہے۔ لیکن آسام میں لگاتار سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کی وجہ سے اب چار یا دیگر جگہوں پر رہنے والے لوگ بانس سے بنے اور مخصوص قسم کی چھتوں والے روایتی گھروں کی بجائے نئے زمانے کے ٹن کی چھتوں اور دیواروں سے بنے فولڈنگ ہاؤس میں رہنے لگے ہیں۔ بانس کاٹنے کی مانگ اب مغربی بنگال اور بہار میں بھی کم ہونے لگی ہے، کیوں کہ وہاں پر بھی لوگ اب اینٹ یا ٹن کی مدد سے کم لاگت والے گھر تیزی سے بنانے لگے ہیں۔











