عبدالرحمٰن کی دنیا اب پوری طرح سے سمٹ چکی ہے – پیشہ کے لحاظ سے، ذاتی طور پر اور جسمانی اعتبار سے بھی۔ اور اس میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ کسی زمانے میں بطور مہاجر مزدور چار بر اعظموں کی سیر کرنے والے عبد الرحمن، آج ۱۵۰ مربع فٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں، جہاں وہ اپنی فیملی کے پانچ اراکین کے ساتھ رہتے ہیں۔
ممبئی – جہاں ان کے والد کئی دہائی قبل تمل ناڈو کے ایک گاؤں سے آ کر بس گئے تھے – میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرنے سے قبل، عبدالرحمن سعودی عرب، دبئی، برطانیہ، کناڈا، انڈونیشیا، ملیشیا اور افریقہ کے کچھ علاقوں میں بلڈوزر اور کار چلانے کا کام کرتے تھے۔ آج، ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ماہم جھگی بستی کی تنگ گلیوں سے انہیں کرسی پر بیٹھا کر ٹیکسی تک لے جانا پڑتا ہے، پھر یہ ٹیکسی انہیں وہاں سے ساین اسپتال لے جاتی ہے۔ ایسا ایک بار نہیں، بلکہ بار بار کرنا پڑتا ہے۔
جب اسپتال جانے کا وقت آتا ہے، تو رحمٰن اپنے کمرے سے اترنے کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ سیڑھی اُن کے دروازے کے ٹھیک باہر ہے۔ وہ فرش پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کا بیٹا نیچے سے ٹانگیں پکڑتا ہے اور بھتیجا یا کوئی پڑوسی اوپر سے سہارا دیتا ہے۔ اس کے بعد رحمٰن نو قدموں پر مشتمل اس سیڑھی سے ایک بار میں ایک قدم پار کرتے ہوئے بڑی تکلیف سے نیچے اترتے ہیں۔
نیچے تنگ گلی میں اتر جانے کے بعد، انہیں سہارا دے کر ایک پرانی اور پینٹ کے داغ والی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھایا جاتا ہے۔ ان کا دایاں پیر چونکہ کٹا ہوا ہے، اس لیے وہ اس پیر کو کرسی کے اوپر ہی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد، ان کا بیٹا اور دو لوگ اُس لمبی اور گھماؤدار گلی سے ہوتے ہوئے، ماہم بس ڈپو کے قریب والی سڑک کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہاں، رحمٰن کو ایک ٹیکسی کے اندر بیٹھایا جاتا ہے۔
ساین کا سرکاری اسپتال وہاں سے بمشکل پانچ کلومیٹر دور ہے، لیکن ان کے لیے ٹیکسی کا کرایہ بہت زیادہ ہے۔ پچھلے سال کئی مہینوں تک انہیں پیروں پر پٹی بندھوانے – اور سنگین ذیابیطس اور خون کا دوران بند ہونے سے جو مسائل پیدا ہوئے، ان کا علاج کرانے کے لیے ہر ہفتے اسپتال جانا پڑا۔ زخم جب تھوڑا بھر گیا، تو اسپتال جانا بھی کم ہوا، لیکن اب بھی انہیں کبھی کبھی کرسی پر بیٹھا کر دو طرفہ، دو یا تین منزلہ دربے نما مکانوں کے درمیان کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے شمالی ممبئی کے موری روڈ تک کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔














