اپنے گھر کے باہر چارپائی پر بیٹھی ۴۰ سالہ مالن اپنی ماں کے گھر لوٹنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ اپنا پسندیدہ بوٹی دار بلاؤز اور ٹخنے تک لمبی اسکرٹ پہنے ہوئی ہیں۔ وہ مجھے دیکھتی ہیں، ان کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ پچھلی بار ملاقات کے سبب وہ مجھے پہچان لیتی ہیں۔ ’’آئی ناہی گھری [ماں گھر پر نہیں ہیں]،‘‘ وہ مجھے بتاتی ہیں جب میں اینٹ، پتھر اور مٹی کے دو کمروں والے ان کے گھر کے دروازے پر بیٹھتی ہوں۔
مالن مورے اپنی ۶۳ سالہ ماں راہی بائی اور ۸۳ سالہ والد نانا کے ساتھ واڈی گاؤں میں رہتی ہیں (ان کے نام، اور گاؤں کا نام بدل دیا گیا ہے)۔ یہ گاؤں پونہ ضلع کے مُلشی تعلقہ میں ہے، جہاں پر یہ فیملی تقریباً تین ایکڑ زمین پر دھان، گیہوں اور سبزیوں کی کھیتی کرتی ہے۔
مالن جب تقریباً ۱۸ سال کی تھیں، تو پونہ کے سسون جنرل اسپتال میں ان کی ’ذہنی معذوری‘ کا پتہ چلا تھا۔
اس سے پہلے ۱۲ سال تک، وہ ریاست کے ذریعے چلائے جا رہے مقامی پرائمری اسکول میں پڑھنے جاتی تھیں۔ ’’اس کے سبھی ہم جماعتوں نے جماعت ۴ پاس کر لیا اور آگے بڑھ گئے، لیکن وہ زمین پر رینگنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پائی،‘‘ راہی بائی بتاتی ہیں۔ ’’آخرکار، کلاس ٹیچر نے مجھ سے کہا کہ اسے اسکول سے نکال لوں۔‘‘ مالن اس وقت تقریباً ۱۵ سال کی تھیں۔
تب سے، مالن اپنی ماں کے ساتھ گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے اپنا دن گزارتی ہیں، لیکن جب طبیعت کرتی ہے صرف تبھی۔ وہ بہت کم بات کرتی ہیں، اور جب کرتی ہیں، تو عام طور پر صرف راہی بائی اور کچھ دیگر کے ساتھ ہی کرتی ہیں۔ لیکن وہ بات کو سمجھتی اور بات کر سکتی ہیں۔ جب میں نے ان کے ساتھ بات کی، تو انہوں نے سر ہلایا، مسکرائیں اور تھوڑی دیر کے لیے بولیں۔







