’’انہیں اسکول لانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔‘‘
ہیڈ ماسٹر شوجی سنگھ یادو اپنے ۳۴ سال کے تجربے کی بنیاد پر یہ باتیں کہہ رہے ہیں۔ ڈابلی چاپری کے اس واحد اسکول کو چلانے والے یادو کو ان کے شاگرد ’ماسٹر جی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ آسام کے ماجولی ضلع میں، برہم پتر ندی کے اس جزیرہ پر کل ۶۳ خاندان آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر گھروں کے بچے اس اسکول میں پڑھنے آتے ہیں۔
دھونے کھَنا مزدور لوور پرائمری اسکول کے واحد کلاس روم میں اپنے ڈیسک پر بیٹھے ہوئے، شوجی اپنے ارد گرد موجود طلباء کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ وہاں بیٹھے ہوئے پہلی کلاس سے پانچویں کلاس تک کے ۴۱ بچے پلٹ کر انہیں دیکھتے ہیں – سبھی طالب علم ۶ سے ۱۲ سال کی عمر کے ہیں۔ شوجی کہتے ہیں، ’’چھوٹے بچوں کو پڑھانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ بھاگنے میں ماہر ہیں!‘‘
ہندوستان کے تعلیمی نظام پر بات کرنے سے پہلے، وہ تھوڑی دیر کے لیے رکتے ہیں اور کچھ بڑے بچوں کو آواز لگاتے ہیں۔ وہ انہیں ریاستی حکومت کے ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے آسامی اور انگریزی زبان میں بھیجی گئی کہانی کی کتابوں کا پیکٹ کھولنے کے لیے کہتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نئی کتابوں کے بارے میں شاگردوں کا جوش انہیں مصروف رکھے گا اور اس طرح وہ آسانی سے ہم سے بات کر پائیں گے۔
ابتدائی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وہ کہتے ہیں، ’’سرکار کالج کے پروفیسر کو جتنے پیسے دیتی ہے پرائمری اسکول کے ٹیچر کو بھی اتنے ہی پیسے ملنے چاہئیں؛ آخر ہم ہی لوگ تو بنیاد کھڑی کرتے ہیں۔‘‘ لیکن، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بچوں کے ماں باپ بھی پرائمری اسکول کی تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور سمجھتے ہیں کہ صرف ہائی اسکول کی ہی اہمیت ہے – اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے وہ کڑی محنت کر رہے ہیں۔

















