’’گرمی سے میری پیٹھ جل گئی ہے،‘‘ بجرنگ گوسوامی، گجو واس گاؤں کے ٹھیک باہر، کھیجڑی کے درختوں کے ہلکے سے سایہ میں زمین پر بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’گرمی بڑھ رہی ہے، فصل کی پیداوار گھٹ رہی ہے،‘‘ وہ کٹے ہوئے باجرا کے انبار کی طرف دیکھتے ہوئے آگے کہتے ہیں۔ ایک اونٹ پاس میں ہی کھڑا ہے اور راجستھان کے چورو ضلع کی تارا نگر تحصیل میں اس ۲۲ بیگھہ کھیت پر سوکھی گھاس چر رہا ہے، جس پر وہ اور ان کی بیوی راج کور بٹائی دار کسان کے طور پر کھیتی کرتے ہیں۔
’’سر کے اوپر سورج گرم ہے، پیر کے نیچے ریت گرم ہے،‘‘ تارا نگر کے جنوب میں واقع سُجان گڑھ تحصیل کی گیتا دیوی نائک کہتی ہیں۔ گیتا دیوی، جو کہ ایک بیوہ ہیں اور ان کے پاس کوئی زمین بھی نہیں ہے، بھگوانی دیوی چودھری کی فیملی کے کھیت پر مزدوری کرتی ہیں۔ دونوں نے گُداوری گاؤں میں ابھی ابھی، شام کے تقریباً ۵ بجے اپنا کام مکمل کیا ہے۔ ’’گرمی ہی گرمی پڑے [پڑتی ہے] آج کل،‘‘ بھگوانی دیوی کہتی ہیں۔
شمالی راجستھان کے چورو ضلع میں، جہاں گرمیوں میں ریتیلی زمین سائیں سائیں کرتی ہے اور مئی جون میں ہوا تپتی ہوئی بھٹی کی طرح محسوس ہوتی ہے، گرمی – اور یہ کیسے شدت اختیار کرتی جا رہی ہے – کے بارے میں گفتگو عام بات ہے۔ اُن مہینوں میں درجۂ حرارت آسانی سے ۴۰ تک پہنچ جاتا ہے۔ پچھلے مہینے ہی، یعنی مئی ۲۰۲۰ میں، درجۂ حرارت بڑھ کر ۵۰ ڈگری سیلسیس ہو گیا تھا – اور ۲۶ مئی کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ تھا، جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا۔
لہٰذا پچھلے سال، سورج کی تپش نے جب چورو میں اپنا ریکارڈ توڑا اور جون ۲۰۱۹ کے شروع میں درجۂ حرارت ۵۱ ڈگری سیلسیس کے نشان پر پہنچ گیا – جو کہ پانی کے نقطۂ اُبال کے نصف سے زیادہ ہے – تو وہاں کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ ’’مجھے یاد ہے، تقریباً ۳۰ سال پہلے بھی یہ ۵۰ ڈگری تک پہنچ گیا تھا،‘‘ ۷۵ سالہ ہر دیال جی سنگھ، جو کہ ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر اور زمیندار ہیں، گجو واس گاؤں میں اپنے بڑے سے گھر میں چارپائی پر لیٹتے ہوئے کہتے ہیں۔
چھ مہینے بعد، بعض سالوں میں دسمبر-جنوری میں، چورو نے درجہ حرارت صفر سے نیچے بھی دیکھا ہے۔ اور فروری ۲۰۲۰ میں، ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے پایا کہ ہندوستان کے میدانی علاقوں میں سب سے کم درجۂ حرارت چورو کا ہے، ۴ء۱ ڈگری۔


















