شام کے چھ بج رہے ہیں۔ یہ گایوں کے گھر آنے کا وقت ہے۔ لیکن مھسئی واڈی میں، گائیں چھ مہینے تک واپس نہیں آئیں گی۔ اس دوران نہ تو گائے کی کوئی گھنٹی بجے گی، نہ موج مستی ہوگی، نہ دودھ جمع کرنے والی گاڑی کی کوئی ہلچل ہوگی اور نہ ہی گائے کے تازہ گوبر کی بدبو۔ مہاراشٹر کے ستارا ضلع کے مان بلاک میں تقریباً ۳۱۵ گھروں کا یہ گاؤں خاموش ہے۔ یہاں کے آدھے لوگ اور تقریباً سبھی مویشی پانچ کلومیٹر دور، مھسوڈ شہر کے پاس، ایک چارہ کیمپ میں گئے ہیں، جو ستارا سے ۱۰۰ کلومیٹر دور واقع ہے۔
سنگیتا ویرکر (۴۰) بھی جنوری سے وہیں رہ رہی ہیں۔ وہ اپنے دو بھینسوں اور دو جرسی گایوں کے ساتھ ساتھ، اپنے بزرگ اور کمزور والد کی ایک گائے اور ایک بچھڑا بھی لے کر آئی ہیں۔ ان کے والد، ۴۴ سالہ نندو، اپنی ۱۵ سالہ بیٹی کومل جو ۱۰ویں کلاس کا امتحان دے رہی ہے اور بیٹا وشال جو ۷ویں کلاس میں ہے، کے ساتھ گاؤں میں ہی مقیم ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ فیملی کی تین بکریاں، ایک بلی اور ایک کتا بھی گھر پر ہیں۔
’’بچے گھر پر اور مویشی کیمپ میں۔ مجھے دونوں کی [ایک ہی طرح] دیکھ بھال کرنی ہے،‘‘ سنگیتا کہتی ہیں، جو دھنگر برادری سے ہیں، جو ایک خانہ بدوش ذات ہے۔ ’’اس سال ایک مرتبہ بھی بارش نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس ۱۲ ایکڑ زمین ہے جس پر میرے شوہر اور ان کے دو بھائی مشترکہ طور پر کھیتی کرتے ہیں۔ عام طور پر ہمیں ۲۰-۲۵ کوئنٹل جوار باجرا [خریف کے موسم میں] ملتا ہے۔ لیکن اس سال ہمیں کچھ نہیں ملا۔ پوری فصل برباد ہو گئی۔ بارش نہ ہونے کا مطلب ہے کوئی اناج نہیں۔ ربیع کی بوائی تقریباً صفر ہے۔ ہم اپنے مویشیوں کو کیسے کھلائیں؟‘‘ وہ پیار سے ایک گائے کو تھپتھپاتے ہوئے سوال کرتی ہیں۔









