بیس کیمپ میں نئے سرے سے امید اور جوش دکھائی دے رہا تھا، جہاں ہری وردیوں میں ملبوس مرد و خواتین اپنے سیل فون پر پیغامات، نقشوں اور تصویروں کی لگاتار نگرانی کر رہے تھے۔
اُس دن صبح سویرے، ایک کھوجی ٹیم نے پاس کے جنگل کے ایک حصے میں پیروں کے تازہ نشان دیکھے تھے۔
محکمہ جنگلات کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ایک دوسری ٹیم، کپاس کے کھیتوں اور آبی ذخائر سے گھرے جھاڑی دار جنگل کے ۵۰ مربع کلومیٹر کے علاقے میں لگائے گئے ۹۰ کیمروں میں سے ایک سے، شیر کی کچھ دھندلی تصویروں کے ساتھ لوٹی ہے۔ ’’دھاریاں مادہ جیسی دکھائی دے رہی ہیں،‘‘ ہری وردی پہنے جنگل کے ایک نوجوان اہلکار نے کہا، اس کی آواز تناؤ بھری ہے۔ ’’تصویر صاف نہیں ہے،‘‘ اس کا سینئر کہتا ہے، ’’ہمیں اور بھی صاف چاہیے۔‘‘
کیا یہ اس کی ہو سکتی ہے؟ کیا وہ آس پاس ہی ہو سکتی ہے؟
جنگل کے محافظوں، تلاش کرنے والوں اور تیز نشانہ بازوں کی ٹیمیں ایک اور مشکل دن کے لیے الگ الگ سمت میں پھیلنے والی تھیں، ایک شیرنی کی تلاش میں، جو اپنے دو بچوں کے ساتھ تقریباً دو سال سے پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔
شیروں نے کم از کم ۱۳ دیہی باشندوں پر حملہ کرکے انھیں مار دیا تھا – وہ ان سبھی معاملوں میں مشتبہ تھی۔
وائلڈ لائف وارڈن کے حکم کے مطابق کہ شیرنی کو ’پکڑو یا مار دو‘، دو مہینے سے بڑا آپریشن چل رہا تھا۔ لیکن دونوں میں سے کوئی بھی متبادل آسان نہیں تھا۔ ۲۸ اگست ۲۰۱۸ سے، اس نے اپنا کوئی سراغ نہیں دیا تھا۔ کیمرے کی ایک چھوٹی سی بیپ، یا پیروں کے نشان، اسے ڈھونڈنے یا پکڑنے کی کوشش میں لگی ٹیموں کے درمیان امید جگا دیتے۔











