شانتی لال، شونتو، ٹینیو: تین نام اور تینوں ایک ہی شخص کے۔ لیکن شاید ہم ان کے چوتھے نام کا استعمال کرسکتے ہیں۔ سابر کانٹھا ضلع کے وڈالی گاؤں کی بولی میں ان کا نام ’شونتو‘ ہو جائے گا۔ تو، آئیے انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں۔
شونتو کا کردار ایک استثنائی کردار ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ غیر معمولی، منفرد، مشہور جیسی صفات سے متصف ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ نیک، غریب، پسماندہ یا دلت ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کا کردار ثابت قدم، مصائب زدہ اور بے سمت نظر آتا ہے۔ بعض اوقات شونتو مکمل طور پر لا موجود معلوم ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات ان کی موجودگی ایک نہایت ہی معمولی انسان کے مساوی ہو جاتی ہے۔
شونتو کی پرورش انتہائی غربت میں ان کے والدین، ایک بڑے بھائی اور دو بہنوں (ان میں سے ایک ان سے چھوٹی) کی موجودگی میں ہوئی۔ انہوں نے کبنے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر ہمیشہ قینچی چلتے دیکھی تھی۔ والدین اور بڑے بھائی بہن مل کر اتنا کما لیتے تھے کہ دو وقت کے کھانے کا انتظام ہو سکے۔ والد مال بردار میٹاڈور چلاتے تھے، لیکن الگ سے کوئی سواری نہ اٹھانے کی وجہ سے کوئی اضافی آمدنی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ماں دہاڑی مزدور تھیں۔ انہیں کبھی کام ملتا تھا اور کبھی نہیں ملتا تھا۔ گھر کی ایک خوش آئند بات یہ تھی کہ والد شرابی نہیں تھے اور گھر میں زیادہ ہنگامہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اس بات کا احساس شونتو کو بہت بعد میں ہوا تھا۔
جب شونتو وڈالی کے شاردا ہائی اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم تھے، تو گاؤں میں ایک سرکس آیا تھا، جس کے ٹکٹ کافی مہنگے تھے۔ تاہم اسکول کے طلباء کو پانچ روپے فی ٹکٹ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اسکول لے جانے کے لیے شونتو کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ’’کھڑے ہو جاؤ،‘‘ ٹیچر نے حکم دیا۔ ’’بیٹے، تمہارے پاس پیسے کیوں نہیں ہیں؟‘‘ انہوں نے پیار سے دریافت کیا تھا۔ ’’میڈم، میرے والد بیمار ہیں، اور ماں کو ابھی تک کپاس اوٹنے کی مزدوری نہیں ملی ہے،‘‘ شونتو رونے لگے تھے۔
اگلے دن ان کی ہم جماعت کُسم پٹھان نے ’رمضان میں ایصال ثواب کے طور پر‘ انہیں ۱۰ روپے دیے۔ ایک دن بعد کسم نے ان سے پوچھا، ’’میں نے جو پیسے دیے تھے اس کا تم نے کیا کیا؟‘‘ شونتو نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’پانچ روپے سرکس کے ٹکٹ پر خرچ کیے اور پانچ روپے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے دیے۔‘‘ یہ تھی کسم، رمضان، شونتو اور سرکس کی معصوم دنیا۔
جب وہ گیارہویں جماعت میں تھے، تب ان کے کچے مکان کو بغیر پلاسٹر کے اینٹ اور سیمنٹ سے دوبارہ تعمیر کرنا پڑا تھا۔ چونکہ ان کا کنبہ اس کام کے سبھی اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے صرف ایک مستری کو یومیہ اجرت پر رکھا گیا اور باقی کے کام ان کے گھر والوں نے مل کر کیا تھا۔ اس تعمیر میں کافی وقت صرف ہوا تھا اور اس سے پہلے کہ شونتو کو وقت کا احساس ہوتا، ان کے سالانہ امتحانات سر پر آن کھڑے ہوئے۔ ان کی حاضری کم پڑ گئی تھی۔ ہیڈ ماسٹر سے التجا کرنے اور انہیں اپنی صورتحال سے باخبر کرنے کے بعد امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی تھی۔
وہ بارویں جماعت میں پہنچ چکے تھے اور اس میں بہتر کارکردگی کا عہد کر لیا تھا۔ شونتو نے سخت محنت کی، لیکن تبھی ماں بیمار پڑ گئیں۔ ان کی بیماری میں تیزی سے اضافہ ہوا، اور فائنل امتحانات سے عین قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ اس نقصان، اس درد کا بوجھ ایک ۱۸ سالہ لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔ انہوں نے قریب آ رہے امتحانات کا دباؤ محسوس کیا، لیکن ان کی محنت کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ انہیں ۶۵ فیصد نمبر ملے۔ شونتو تعلیم جاری رکھنے کا خیال ترک کرنے کی سوچنے لگے۔
انہیں پڑھنے کا شوق تھا۔ اس لیے پبلک لائبریری جانے اور وہاں سے کتابیں گھر لانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پڑھائی میں ان کی دلچسپی دیکھ کر ایک دوست نے انہیں وڈالی آرٹس کالج میں تاریخ میں بیچلر ڈگری کے لیے داخلہ لینے پر راضی کر لیا۔ دوست نے کہا کہ ’’تم کو وہاں کچھ بہترین کتابیں پڑھنے کو ملیں گی۔‘‘ شونتو نے کورس جوائن کیا لیکن کالج صرف لائبریری سے کتابیں لینے اور انہیں واپس کرنے گئے۔ باقی دن روئی اوٹنے کا کام کرتے تھے۔ شام کو کتابیں پڑھتے، یا ادھر ادھر چہل قدمی کرتے رہتے۔ بی اے کے پہلے سال میں انہیں ۶۳ فیصد نمبر ملے۔
جب پروفیسر نے ان کے امتحان کے نتائج دیکھے، تو شونتو سے باقاعدگی سے کالج آنے کی درخواست کی۔ اس دوران شونتو بھی اپنی پڑھائی سے لطف اندوز ہونے لگے تھے۔ یہ ان کا تیسرا سال تھا۔ وڈالی کے آرٹس کالج نے مطالعہ کی بہترین مہارت رکھنے والے طالب علم کو میرٹ سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ شونتو نے بھی اپنا دعویٰ پیش کیا۔ ان کے پروفیسر نے حیران ہو کر پوچھا تھا، ’’تمہیں لائبریری جاکر کتابیں لینے کا وقت کب ملتا ہے، شانتی لال؟‘‘ شونتو نے ۲۰۰۳ میں ۶۶ فیصد نمبروں کے ساتھ بی اے کا تیسرا سال پاس کیا تھا۔







