جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے وزیری تھل گاؤں میں اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کا تجربہ بیان کرتے ہوئے ۲۲ سالہ شمینہ بیگم کہتی ہیں، ’’اس شام جب میری پانی کی جھلی پھٹ گئی، تو مجھے کافی درد ہونے لگا تھا۔ گزشتہ تین دنوں سے برف باری ہو رہی تھی۔ جب بھی برف باری ہوتی ہے، تو کئی دنوں تک سورج نہیں نکلتا ہے۔ ایسے میں ہمارے سولر پینل چارج نہیں ہوتے ہیں۔‘‘ بانڈی پورہ کا یہ وہ گاؤں ہے جہاں سورج کئی دنوں تک، یا باقاعدگی سے نہیں نکلتا ہے۔ وہاں کے لوگ توانائی حاصل کرنے کے اپنے واحد ذریعہ، شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے شمینہ کہتی ہیں، ’’مٹی کے تیل (کیروسین) سے جلنے والے لالٹین کی روشنی کے علاوہ ہمارا پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس لیے، اس دن شام کو پڑوس کی عورتیں اپنی اپنی لالٹینیں لے کر آ گئیں۔ پھر زرد رنگ کی پانچ شعاعوں نے کمرے کو منور کر دیا جہاں میری ماں نے کسی طرح راشدہ کی پیدائش میں میری مدد کی۔‘‘ یہ اپریل ۲۰۲۲ کی ایک رات کا واقعہ ہے۔
وزیری تھل، بڈوگام گرام پنچایت کے سب سے خوبصورت گاؤوں میں سے ایک ہے۔ لیکن شمینہ کے گھر تک پہنچنے کے لیے سرینگر سے ۱۰ گھنٹے کی ڈرائیو کرنی پڑتی ہے، جس میں رازدان درّہ سے گریز وادی تک ساڑھے چار گھنٹے تک کچی سڑک کا سفر، نصف درجن چیک پوسٹ، اور آخری ۱۰ منٹ کے پیدل سفر سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں پہنچنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔
لائن آف کنٹرول سے چند میل کے فاصلے پر واقع وادی گریز کے اس گاؤں میں دیودار کی لکڑی سے بنے گھر ہیں، جن میں ۲۴ کنبے آباد ہیں۔ حری حجز (تھرمل انسولیشن) کے لیے گھروں میں اندر سے مٹی کی لیپ لگائی گئی ہے۔ سبز رنگ میں رنگے یاک کے پرانے سینگ (کبھی اصلی اور کبھی لکڑی کی نقل) مرکزی دروازوں کی زینت بنتے ہیں۔ تقریباً سبھی کھڑکیاں سرحد کی دوسری جانب دیکھتے ہوئے کھلتی ہیں۔
شمینہ اپنے گھر کے باہر لکڑی کے ڈھیر پر اپنے دو بچوں، دو سالہ فرحاز اور چار ماہ کی راشدہ (نام بدل دیے گئے ہیں)، کے ساتھ بیٹھی شام کے سورج کی آخری کرنوں میں نہا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میری ماں مجھ جیسی نئی ماؤں سے کہتی ہیں کہ وہ روزانہ صبح اور شام کو اپنے نومولود بچوں کے ساتھ دھوپ میں بیٹھیں۔‘‘ ابھی اگست ہے۔ برف نے ابھی تک وادی پر اپنا تسلط قائم نہیں کیا ہے۔ لیکن اب بھی بعض اوقات مطلع ابر آلود رہتا ہے، کبھی کبھار بارش آجاتی ہے، اور ہم کئی روز تک سورج اور بجلی کے بغیر رہتے ہیں۔









