ومل ٹھاکرے، وانگنی قصبہ میں اپنے دو کمرے کے گھر کے چھوٹے سے باتھ روم میں کپڑے دھو رہی ہیں۔ کمزور ہاتھوں سے ساڑی، شرٹ اور دیگر کپڑوں پر صابن لگانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور ہرے رنگ کے مگ سے ان پر پانی ڈال رہی ہیں۔
اس کے بعد، وہ ہر ایک دھلی ہوئی چیز کو اپنی ناک کے پاس لاکر سونگھتی ہیں، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ وہ صاف ہو چکی ہے۔ پھر، دیوار پکڑ کر، سمت کے لیے چوکھٹ کو چھوتے ہوئے، وہ باتھ روم سے باہر نکلتی ہیں، لیکن دہلیز پر ٹھوکر کھاتی ہیں۔ اور مجھ سے بات کرنے کے لیے کمرے میں ایک بیڈ پر بیٹھ جاتی ہیں۔
’’ہم دنیا کو چھونے کے ذریعے دیکھتے ہیں، اور چھونے کے ذریعے ہی ہم اپنے ارد گرد کو محسوس کرتے ہیں،‘‘ ۶۲ سالہ ومل کہتی ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر نریش، دونوں نابینا ہیں۔ وہ ممبئی کی مغربی ریلوے لائن پر، چرچ گیٹ سے بوریولی اسٹیشن تک ٹرینوں میں رومال بیچتے تھے۔ یہ کام ۲۵ مارچ سے بند ہو گیا، جب شہر کی لوکل ٹرین خدمات کو ملک گیر کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے دوران ملتوی کر دیا گیا تھا۔
ممبئی کی لوکل ٹرین میں زبردست بھیڑ سے گزرتے ہوئے، وہ دونوں لاک ڈاؤن سے پہلے، ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ۲۵۰ روپے کما لیتے تھے – اور اتوار کو تھوڑا آرام کرتے تھے۔ وہ جنوبی ممبئی کے مسجد بندر کے تھوک بازار سے رومال خریدتے تھے – ایک بار میں ایک ہزار پیس۔ ہر دن، لاک ڈاؤن سے پہلے، وہ ۲۰-۲۵ رومال فروخت کر لیتے تھے، ہر ایک ۱۰ روپے میں۔
ان کا ۳۱ سالہ بیٹا ساگر، جو ان کے ساتھ ہی رہتا ہے، ۱۰ویں کلاس تک پڑھا ہوا ہے اور لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے تک، تھانے میں ایک آن لائن کمپنی کے گودام میں کام کرتا تھا۔ وہ اور اس کی بیوی منجو، جو گھریلو ملازمہ ہے، فیملی کی ماہانہ آمدنی میں ۵-۶ ہزار روپے کا تعاون کرتے تھے۔ اپنی تین سالہ بیٹی ساکشی کے ساتھ، پانچ رکنی ٹھاکرے فیملی چھوٹے سے دو کمرے کے گھر میں ایک ساتھ رہتی ہے۔ ’’اب ۳۰۰۰ روپے کے کرایہ کا انتظام کرنا مشکل ہو رہا ہے، اوپر سے راشن، دوائیں اور ڈاکٹروں کی وقتی فیس جیسے اخراجات بھی ہیں،‘‘ نریش کہتے ہیں۔









