’’میرا شوہر پیر کو اتنی مقدار میں شراب کی بوتلیں خریدتا ہے،‘‘ کنکا اپنا پورا ہاتھ کھول کر بتاتی ہیں۔ ’’وہ اگلے دو تین دنوں تک اس کو پیتا ہے اور جب بوتلیں ختم ہو جاتی ہیں، تب واپس کام پر جاتا ہے۔ کھانے کے لیے کبھی بھی پورا پیسہ نہیں رہتا۔ میں خود کو اور اپنے بچے کو مشکل سے کچھ کھلا پاتی ہوں، اور میرے شوہر کو دوسرا بچہ چاہیے۔ مجھے ایسی زندگی نہیں چاہیے!‘‘ وہ مایوسی سے کہتی ہیں۔
کنکا (بدلا ہوا نام) ۲۴ سال کی بیٹا کرومبا آدیواسی ماں ہیں، جو گڈلور کے آدیواسی اسپتال میں ڈاکٹر کا انتظار کر رہی ہیں۔ گڈلور شہر کا یہ ۵۰ بستروں والا اسپتال، اُدگ منڈلم (اوٹی) سے ۵۰ کلومیٹر دور، تمل ناڈو کے نیلگری ضلع کے گڈلور اور پنتھلور تعلقوں کے ۱۲ ہزار سے زیادہ آدیواسیوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
پتلی دبلی اور بے رنگ ہو چکی سنتھیٹک ساڑی پہنے، کنکا اپنے اکلوتے بچے، ایک لڑکی، کے لیے یہاں آئی ہیں۔ پچھلے مہینے اسپتال سے ۱۳ کلومیٹر دور، ان کی اپنی بستی میں کی گئی ایک باقاعدہ جانچ کے دوران، نیلگری میں صحت سے متعلق فلاحی تنظیم (اشونی) کی ایک صحت کارکن، جو اسپتال سے جڑی ہوئی ہیں، یہ دیکھ کر فکرمند ہو گئیں کہ کنکا کی دو سال کی بچی کا وزن صرف ۷ء۲ کلوگرام ہے (دو سال کے بچے کے لیے مثالی وزن ۱۰-۱۲ کلو ہے)۔ اس وزن کی وجہ سے وہ کم غذائیت کے خطرناک درجہ میں آ گیا ہے۔ صحت کارکن نے کنکا اور ان کی بیٹی سے فورا اسپتال جانے کی اپیل کی۔
جس حد تک کنکا کو اپنی فیملی کی آمدنی کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے بچے کا کم غذائیت کا شکار ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ ان کا شوہر، جس کی عمر بھی تقریباً ۲۰-۳۰ سال کے درمیان ہے، ارد گرد کے چائے، کافی، کیلا اور مرچ کے باغات میں ہفتہ کے کچھ دن کام کرکے روزانہ کے تقریباً ۳۰۰ روپے کماتا ہے۔ ’’وہ کھانے پینے کے لیے مجھے مہینہ کے صرف ۵۰۰ روپے دیتا ہے،‘‘ کنکا کہتی ہیں۔ ’’ان روپیوں سے ہی مجھے پورے گھر کے لیے کھانا بنانا پڑتا ہے۔‘‘
کنکا اور ان کا شوہر اس کے چچا اور چچی کے ساتھ رہتے ہیں، دونوں تقریباً ۵۰ سال کی عمر کے یومیہ مزدور ہیں۔ دونوں کنبوں کے ملاکر ان کے پاس دو راشن کارڈ ہیں، جس کی وجہ سے ان کو ہر مہینے ۷۰ کلوگرام تک مفت چاول، دو کلو دال، دو کلو چینی اور دو لیٹر تیل رعایتی قیمتوں پر ملتے ہیں۔ ’’کبھی کبھی میرا شوہر ہمارے راشن کے چاول کو بھی شراب خریدنے کے لیے بیچ دیتا ہے،‘‘ کنکا بتاتی ہیں۔ ’’کچھ دنوں تو ہمارے یہاں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں رہتا۔‘‘











