گزشتہ سال ۸ نومبر کو ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ بند ہوجانے کے دس مہینے بعد بھی نوٹ بندی کا بھوت دیپک بڈاونے کو پریشان کر رہا ہے۔
نومبر کے شروع میں، بڈاونے نے اپنے ڈھائی ایکڑ کھیت پر ۳۱ کوئنٹل کپاس پیدا کی تھی۔ انھیں امید تھی کہ اس سے ان کی اچھی کمائی ہوگی۔ ’’تاجر نے ٹرک کا انتظام کیا اور کپاس کو میرے گھر سے ٹرک پر لدوایا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ لیکن تبھی، نوٹ بندی کی وجہ سے نقدی کی کمی نے زرعی شعبہ پر برا اثر ڈالا۔ دیپک کو ان کے کپاس کا پیسہ نہیں مل سکا۔ ’’تاجر اب یہ کہہ رہا ہے کہ وہ دیوالی تک (اکتوبر ۲۰۱۷ کے وسط تک) پیسے ادا کرے گا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
کاٹن کے لیے اس تاجر کو بڈاونے کو ۱۷۸۴۸۳ روپے دینے ہیں۔ انھوں نے اتنی رقم کا جو چیک اس سے ۲۴ مارچ کو حاصل کیا تھا وہ تین بار باؤنس ہو چکا ہے۔ ’’میں ہی اکیلا نہیں ہوں،‘‘ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد شہر کے مضافات میں واقع کراج گاؤں میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ۳۱ سالہ دیپک کہتے ہیں۔ ’’میرے گاؤں میں دوسرے لوگ بھی ہیں، جن کے ساتھ ایسا ہی دھوکہ کیا گیا۔‘‘
بڈوانے جو ایک مشترکہ فیملی میں رہتے ہیں اور جن کے دو بچے ہیں، ۱۳۰۰ لوگوں کے اس گاؤں میں ایسے کچھ لوگوں کو جمع کیا، جو اپنی بقایا رقم کا انتظار کر رہے ہیں یا پھر جنہیں ملنے والے چیک باؤنس ہو گئے ہیں۔ نوٹ بندی کے تقریباً چھ مہینے بعد، اپریل میں دیپک کے ۳۸ سالہ بھائی جیتندر کو ۳۴ کوئنٹل کپاس کے بدلے تقریباً دو لاکھ روپے کا چیک ملا۔ لیکن یہ بھی باؤنس ہو گیا۔ ’’میں اس کا کیا کروں گا اگر میرے ہاتھ میں اس کا نقد نہیں آ سکا؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ ’’فصل کی بوائی (جو وسط جون میں شروع ہوئی) کے لیے مجھے نقدی کی ضرورت ہے۔‘‘



