پوار نے اپنی کپاس پہلے اس لیے نہیں فروخت کی تھی کیوں کہ اس کی قیمت جنوری - فروری میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) ۵۵۰۰ روپے فی کوئنٹل سے بھی نیچے گر گئی تھیں۔ فروری کے آخر میں، انہوں نے مزدوروں کا پیسہ چکانے کے لیے ۴۵۰۰ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے ۴۰-۵۰ کوئنٹل کپاس فروخت کی تھی۔
کسن پوار کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں کپاس کی قیمتیں جنوری - فروری میں گھٹی ہیں اور مارچ اپریل میں دوبارہ بڑھی ہیں۔ اس لیے انہوں نے فوراً سبھی کپاس بیچنے کی بجائے اپریل تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن مارچ میں لاک ڈاؤن شروع ہو گیا۔
اب، چونکہ کووڈ-۱۹ کا بحران بڑھتا جا رہا ہے اور لاک ڈاؤن اپنے تیسرے مہینے میں ہے، اس لیے کوئی خریدار نہیں ہے، اور زرعی اشیاء کی سپلائی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔
پوار مہاراشٹر ہی نہیں، بلکہ ملک بھر کے بے شمار کسانوں میں سے ایک ہیں، جو کپاس (اور ربیع کی دیگر پیداوار، خاص طور سے نقدی فصلوں) کے فروخت نہ ہونے سے پریشان ہیں۔
اس شعبہ میں مارکیٹنگ کا مرکزی حکومت کا سب سے بڑا ادارہ، کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی)، اور ریاستی ایجنسیوں نے مہاراشٹر میں تقریباً ۱۵۰ خرید مرکز کھولے ہیں۔ حالانکہ، معمولی خرید سے پہلے آن لائن رجسٹریشن اور لمبی ای- قطار، پوار جیسے پریشان حال کسانوں کے صبر کا امتحان لے رہی ہے۔
اس طرح، سی سی آئی نے اب تک پورے ہندوستان سے ۹۳ لاکھ گانٹھ کپاس (تقریباً ۴۶۵ لاکھ کوئنٹل) کی خرید کی ہے۔ یہ ۲۰۰۸ میں سب سے زیادہ خریدی گئی ۹۰ لاکھ گانٹھوں سے زیادہ ہے۔ اور قومی سطح پر، گزشتہ ایک دہائی میں اس کی اوسط سالانہ خرید کا تقریباً نو گنا ہے۔ اس نے اتنے بڑے پیمانے پر اس لیے مداخلت کی، کیوں کہ پرائیویٹ تاجروں نے وسط مارچ کے بعد، جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، کپاس کی خرید بند کر دی تھی۔
اس کے علاوہ، تاجروں نے کووڈ-۱۹ سے پہلے اس کی قیمت گھٹا کر ۵۰۰۰ روپے فی کوئنٹل کر دی، جس کی وجہ سے کسانوں نے سی سی آئی کو ۵۵۰۰ روپے میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب تاجر کپاس بالکل بھی نہیں خرید رہے ہیں۔ دریں اثنا، سی سی آئی اور ریاستی حکومت، مزید کپاس خریدنے کے موڈ میں نہیں ہیں کیوں کہ وہ پہلے سے ہی خستہ اقتصادی حالت پر مزید دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔