’’مجھے یاد نہیں کہ میں اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ آندھرا پردیش کے پرکاسم ضلع میں اپنے گاؤں، پامورو کیسے گئی تھی یا آخری رسومات کیسے ادا کی گئیں۔ میرے سسر مجھے اسپتال لے کر گئے تھے، جہاں مجھے بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور دیگر علاج کیا گیا، تب جاکر میں ہوش میں آئی۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں دو سال سے زیادہ وقت لگا کہ میرے شوہر واقعی میں مر چکے ہیں۔‘‘
اس واقعہ کو ۱۰ سال گزر چکے ہیں، لیکن ناگمّا ان کی موت کو یاد کرکے اب بھی بے سُدھ ہو جاتی ہیں۔ ’’تب میرے رشتہ داروں نے کہا تھا کہ مجھے اپنی بیٹیوں کے لیے جینا ہے، اس کے بعد ہی میں نے اپنی جدوجہد شروع کر دی۔ مجھے پاس کی ایک فیکٹری میں ہاؤس کیپنگ کی نوکری مل گئی، لیکن مجھے اس کام سے نفرت تھی۔ میرے والدین بھی صفائی ملازم تھے – میرے والد سیپٹک ٹینک/نالے کی صفائی اور کچرا اکٹھا کرتے تھے اور میری ماں جھاڑو لگاتی تھیں۔‘‘
تمل ناڈو میں زیادہ تر صفائی ملازم آندھرا پردیش کے ہیں؛ وہ تیلگو بولتے ہیں۔ تمل ناڈو کے کئی حصوں میں، صفائی ملازم طبقہ کے لیے خصوصی تیلگو میڈیم اسکول ہیں۔
ناگمّا اور ان کے شوہر آبائی طور پر پامورو گاؤں کے تھے۔ ’’میری شادی ۱۹۹۵ میں ہوئی تھی، جب میں ۱۸ سال کی تھی،‘‘ ناگمّا کہتی ہیں۔ ’’میرے والدین میری پیدائش سے پہلے ہی چنّئی آ گئے تھے۔ ہم اپنی شادی کےے لیے گاؤں چلے گئے اور چنئی لوٹنے سے پہلے کچھ سال وہیں رہے۔ میرے شوہر تعمیراتی مقام پر راج مستری کا کام کرنے لگے۔ جب بھی کوئی سیپٹک ٹینک صاف کرنے کے لیے بلاتا، وہ چلے جاتے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ وہ سیور میں کام کرتے ہیں، تو میں نے اس کی پرزور مخالفت کی۔ اس کے بعد، وہ جب بھی اس کام کے لیے جاتے مجھے اس کے بارے میں بتاتے نہیں تھے۔ جب وہ اور دو دیگر، ۲۰۰۷ میں سیپٹک ٹینک کے اندر مرے، تو کوئی گرفتاری نہیں ہوئی؛ ان کے قتل کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ دیکھئے، ملک ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؛ ہماری زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ہماری مدد کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا – کوئی سرکار نہیں، کوئی افسر نہیں۔ آخرکار، صفائی کرمچاری آندولن (ایس کے اے) نے مجھے سکھایا کہ اپنے حقوق کے لیے کیسے لڑنا ہے۔ میں ۲۰۱۳ میں آندولن کے رابطہ میں آئی۔‘‘
اپنے حقوق کے بارے میں معلوم ہو جانے کے بعد، ناگمّا پر اعتماد اور کھل کر بولنے لگیں۔ وہ دیگر خواتین سے ملیں، جنہوں نے اپنے شوہر یا رشتہ داروں کو سیور یا سیپٹک ٹینک میں کھو دیا ہے۔ ’’جب مجھے پتہ چلا کہ گٹر میں اپنا شریک حیات کھونے والی میں اکیلی نہیں ہوں، بلکہ ایسی سیکڑوں خواتین ہیں جن کا غم میرے جیسا ہی ہے، تو میں نے اپنے غم کو اپنی طاقت میں بدلنا شروع کر دیا۔‘‘