’’شام ۷ بجے سے صبح ۷ بجے کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت پر، ضروری سرگرمیوں کو چھوڑ کر، ’سختی سے پابندی‘ رہے گی۔‘‘
– وزارتِ داخلہ کا سرکولر (۱۷ مئی کو انڈیا ٹوڈے میں شائع)
سرکولر میں ’مسافر گاڑیوں اور بسوں کی بین ریاستی آمد و رفت کی اجازت دے کر مہاجر مزدوروں کو راحت‘ دی گئی تھی (اگر دو پڑوسی ریاستیں اس پر متفق ہو جائیں)۔ لیکن اس میں شاہراہ پر پیدل چلنے والے لاکھوں لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
کرفیو کے وقت نے انہیں تپتی گرمی کے اس موسم میں صبح ۷ بجے سے شام ۷ بجے کے درمیان، بعض دفعہ ۴۷ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں چلنے پر مجبور کر دیا۔
ایک مہینہ پہلے، لاک ڈاؤن کے سبب کام اور آمدنی بند ہو جانے کے بعد، تلنگانہ کے مرچ کے کھیتوں میں کام کرنے والی ۱۲ سال کی آدیواسی لڑکی، جملو مڑکم نے چھتیس گڑھ میں واقع اپنے گھر پہنچنے کے لیے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔ یہ بچی تین دنوں میں ۱۴۰ کلومیٹر چلی، لیکن جب وہ اپنے گھر سے صرف ۶۰ کلومیٹر دور تھی، تبھی تھکاوٹ، جسم میں پانی کی کمی اور پٹھوں میں درد کے سبب بیہوش ہوکر نیچے گری اور اس کی موت ہو گئی۔ کرفیو کے اس قسم کے فرمان کتنی اور جملو کو ماریں گے؟
سب سے پہلے، ۲۴ مارچ کو وزیر اعظم کے ذریعے کیے گئے اعلان سے لوگ بری طرح گھبرا گئے، کیوں کہ ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والے اس ملک کو اپنا سارا کام کاج روک دینے کے لیے صرف چار گھنٹے کی مہلت دی گئی۔ ہر جگہ کے مہاجر مزدوروں نے اپنے دور دراز کے گھروں کی طرف پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد، پولس شہر میں جن لوگوں کو پیٹتے ہوئے ان کی گھنی بستیوں میں واپس نہیں لے جا سکی، ہم نے انہیں ریاست کی سرحدوں پر روک لیا۔ ہم نے لوگوں کے اوپر حشرہ کش دواؤں کا چھڑکاؤ کیا۔ بہت سے لوگ ’راحت کیمپوں‘ میں چلے گئے، لیکن کس کے لیے راحت، یہ کہنا مشکل ہے۔
ممبئی - ناسک شاہراہ عام دنوں کے مقابلے لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ مصروف تھی۔ لوگوں نے جیسے تیسے چلنا شروع کر دیا۔ بملیش جیسوال، جنہوں نے کئی سال پہلے ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر کھو دیا تھا، انہوں نے مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ بنا گیئر والے ایک اسکوٹر سے پورا کیا۔ ’’چار گھنٹے کے نوٹس پر ملک کو کون بند کرتا ہے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ بھائی بملیش، آپ کو اس کا جواب معلوم ہے۔










